جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

سپریم کورٹ میں زیرالتواء مقدمات کی تعداد کتنے ہزار تک پہنچ گئی؟صرف یکم اگست سے 15 اگست 2018 کے دوران کتنے نئے مقدمات درج ہوئے؟ حیرت انگیزانکشافات

datetime 9  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آ با د (آ ئی این پی) سپریم کورٹ میں عدالتی سال مکمل ہوگیا اور 10 ستمبر سے نئے سال کا آغاز ہوگا جہاں اس وقت 40 ہزار 540 مقدمات میں درخواست گزار فیصلوں کے منتظر ہیں۔سپریم کورٹ میں عدالتی سال کے اختتام کے ساتھ زیرسماعت مقدمات کے اعداد و شمار کے مطابق سپریم کور ٹ اسلام آباد سمیت کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ رجسٹری میں دیوانی نوعیت کے 9 ہزار 368 مقدمات زیرسماعت ہیں۔سپریم کورٹ اسلام آباد اور دیگر رجسٹریوں میں مزید 19 ہزار 374 آئینی

درخواستیں، 2 ہزار249 جیل پٹیشنز اور سپریم کورٹ کی جانب سے لیے گئے ازخود نوٹس کے 39 مقدمات زیر سماعت ہیں۔عدالت عظمی میں اس وقت بنیادی انسانی حقوق کے 274 مقدمات بھی زیر التوا ہیں۔تازہ اعداد وشمار کے مطابق سپریم کوٹ میں یکم اگست سے 15 اگست 2018 کے دوران 682 نئے مقدمات درج ہوئے جن میں اسلام آباد میں 375، کراچی رجسٹری میں 49، لاہور رجسٹری میں 181، پشاور رجسٹری میں 60 اور سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میں درج 17 مقدمات شامل ہیں۔سپریم کورٹ نے اس دوران مجموعی طور پر 526 مقدمات نمٹائے جبکہ پشاور اور کوئٹہ رجسٹری میں ان 15 دنوں میں کوئی مقدمہ نمٹایا نہیں جا سکا ۔یکم سے 15 اگست 2018 کے دوران درج ہونے والے بنیادی انسانی حقوق کے 17 مقدمات میں سے 3 مقدمات کو پایہ تکیمل تک پہنچایا گیا۔ سپریم کورٹ میں عدالتی سال مکمل ہوگیا اور 10 ستمبر سے نئے سال کا آغاز ہوگا جہاں اس وقت 40 ہزار 540 مقدمات میں درخواست گزار فیصلوں کے منتظر ہیں۔سپریم کورٹ میں عدالتی سال کے اختتام کے ساتھ زیرسماعت مقدمات کے اعداد و شمار کے مطابق سپریم کور ٹ اسلام آباد سمیت کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ رجسٹری میں دیوانی نوعیت کے 9 ہزار 368 مقدمات زیرسماعت ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…