جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

پنجاب ہیلتھ کمپنی میں کروڑوں کی کرپشن ،صحت کارڈ کے نام پر حاصل فنڈز شہبازشریف نے سرمایہ کاروں پر لگا دئیے ،نیب تحقیقات میں سنسنی خیزانکشاف

datetime 9  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (آن لائن) سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے پنجاب کے غریب عوام کو صحت کی بہتر سہولیات پہنچانے کے نام پر کروڑوں روپے لوٹ رکھے ہیں‘ شہابز شریف نے پنجاب کے غریب عوام کو ’’صحت کارڈ‘‘ کی فراہمی کے نام پر حاصل کئے گئے 1 ارب 30 کروڑ روپے سرمایہ کاری پر لگا دیئے جبکہ ڈیڑھ ارب روپے کو استعمال بھی نہ کیا جاسکا۔ جس سے شہباز شریف کی غریبوں کو صحت کارڈ فراہمی کے نام پر جھوٹے نعروں کا پول کھول کر سامنے آگیا ہے۔

پنجاب کی وزارت صحت کے تحت قائم کی گئی پنجاب ہیلتھ منیجمنٹ کمپنی میں جاری تحقیقات میں کروڑوں روپے کی کرپشن سامنے آئی ہے اس کمپنی کے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر علی عامر اور ظہیر عباس ملک تھے جن کی ماہانہ تنخواہ سات لاکھ ساٹھ ہزار روپے تھی باقی کرپٹ افسران میں سویرا احمد‘ فیفا مظفر ‘ خرم لودھی ‘ محمد رضا خان‘ محمد منیب اور طارق سکھیرا تھے جبکہ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز ثاقب ظفر‘ ڈاکٹر اجمل خان‘ ڈاکٹر تراب ‘ نعیم الدین‘ تنویر عالم جوکہ ٹی آر ٹی ایسوسی ایشن کے مالک ہیں ،شامل تھے۔ ذرائع سے ملنے والی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ شہباز شریف نے صوبے بھرمیں ضہت کارڈ اور صحت منصوبوں کی دیکھ بھال کیلئے ایک کمپنی تشکیل دی تھی اس کمپنی کے افسران نے غریب لوگوں کو صہت کی سہولیات فراہم کرنے کی بجائے اپنے مالی معاملات کی صحت بہتر بنالی اور قومی خزانہ سے کروڑوں روپے لوٹ کر رفو چکر ہوگئے ہیں جن کی تحقیقات نیب حکام کررہے ہیں کمپنی انتظامیہ نے ہسپتالوں کی اصلاحات کے منصوبہ کے نام پر 30 کروڑ روپے ڈکار چکے ہیں۔ جبکہ افسران نے ڈیٹا اکٹھا کرنے کے نام پر 55 کروڑ روپے نادرا کو ادا کئے تھے جبکہ کمپنی کی مشہوری کے نام پر 1 کروڑ 58 لاکھ روپے اشتہارات پر اڑا دیئے تھے۔ کمپنی انتظامیہ نے قانونی مشاورت کے نام پر لیگل کمپنی وہاب رزاق اینڈ ایسوسی ایٹس کو

ادا کئے تھے یہ کمپنی شہباز شریف کے انتہائی قریبی ساتھی کی ملکیت میں ہے کمپنی انتظامیہ نے گلبرگ تھری میں پرتعیش بنگلہ کرایہ پر حاصل کر رکھا تھا جس کے مالک کو ایک کروڑ 89 لاکھ روپے غیر قانونی طریقہ سے ادا کئے گئے تھے کمپنی انتظامیہ نے صحت کارڈ کی افتتاحی تقریب سرگودھا اور خانیوال میں منعقد کی تھی اس تقریب کی انتظامیہ کی ذمہ داری نجی کمپنی کلاک ورک کو دی گئی تاہم وزیراعظم نواز شریف کے انکار کے بعد یہ تقریب ختم کردی گئی

لیکن نجی کمپنی کو پچاس لاکھ روپے ادا کئے گئے تھے جس کی اب تحقیقات اور بینک ریکارڈ کی چیکنگ جاری ہے۔ کمپنی کا انتظامیہ نے بوگس ڈگریوں کے حامل افسران تعینات کئے تھے جس کو غیر قانونی طور پر پانچ کروڑ پچیس لاکھ روپے غیر قانونی طریقہ سے ادا کئے گئے ہیں جبکہ کمپنی کے افسران نے الاؤنسز کے نام پر چالیس لاکھ روپے اپنے ذاتی اکاؤنٹس میں منتقل کئے تھے کمپنی انتظامیہ نے وزارت خزانہ کی اجازت کے بعیر کمپنی میں تعینات افسران کو 52 ملین روپے ادا کئے گئے۔

کمپنی میں کرپشن کی بھرمار سے تنگ آکر کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے چیف ایگزیکٹو آفیسر کو عہدے سے فارغ کرنے کا فیصلہ دیا لیکن شہباز شریف کی ایما پر چیف ایگزیکٹو بھاری مال بٹور کر رفوچکر ہوگیا۔ شہباز شریف کے دور کے مشہور 56 کمپنیوں کے سکینڈل میں سے یہ سکینڈل بھی شامل ہے کمپنی کے افسران نے پنجاب کے شہریوں کو ہیلتھ انشورنس اور صحت کارڈ کی فراہمی کی ذمہ داری تھی لیکن افسران نے غریبوں کی صحت کا خیال رکھنے کی بجائے کروڑوں روپے کے فنڈز اپنے ذاتی اکاؤنٹس میں ڈالے اور اپنی تجوریاں بھرلی تھیں یہ تمام کرپشن شہباز شریف اور اس کے مافیا کے دور میں ہوئی جس میں کرپشن اور ناقص حکمرانی اپنی انتہا ء کو پہنچ چکی تھی۔ اب نیب حکام ان کرپٹ افسران کا پیچھا کررہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…