جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

شیخ رشید اور چیف کمرشل منیجر ریلوے حنیف گل / خاور مانیکا اورکپتن کے ڈی پی او رضوان گوندل کے تنازعات ،اصل میں ہوا کیا؟عمران خان کو سب سے بڑا خطرہ کس سے ہے؟صدر کون منتخب ہوگا؟اپوزیشن متحد کیوں نہیں ہورہی؟ جاوید چودھری کا تجزیہ، حیرت انگیز انکشافات‎

datetime 27  اگست‬‮  2018 |

صدر ایوب خان جب صرف کمانڈران چیف تھے تو وہ چین سموکر ہوتے تھے‘ صبح اٹھتے وقت انہیں سگریٹ چاہیے ہوتا تھا‘وہ دن میں دو پیکٹ پیتے تھے‘ ایک صبح ان کا اردلی سگریٹ نہ لا سکا ‘ایوب خان نے اسے گدھا کہہ دیا‘ اردلی بنگالی تھا اور عزت نفس کا مالک تھا، اس نے ایوب خان کو پلٹ کر جواب دیا‘ صاحب آپ اگر اپنی زبان کنٹرول نہیں کر سکتے تو اتنی بڑی آرمی کیسے کنٹرول کریں گے‘ یہ بات سیدھی ایوب خان کے دل میں لگی‘ انہوں نے اس کے بعد پوری زندگی سگریٹ پیا اور

نہ کسی کو برا بھلا کہا‘ وہ یحییٰ خان‘ شیخ مجیب الرحمن اور بھٹو جیسے مخالفین کا ذکر بھی آپ‘ جناب اور صاحب کے ساتھ کرتے تھے۔ گورننس اور مینجمنٹ دونوں کا تعلق زبان کے ساتھ ہوتا ہے‘ آپ دوسروں کے ساتھ کس طرح بی ہیو اور کس طرح کمیونی کیٹ کرتے ہیں گورننس کا تعلق اس کے ساتھ ہوتا ہے‘ آپ اگر بی ہیوئیر یا کمیونی کیشن میں مار کھا جاتے ہیں تو آپ مکمل طور پر ناکام ہو جاتے ہیں خواہ آپ کتنے ہی سقراط یا کتنے ہی خلیفہ ہارون الرشید کیوں نہ ہوں اور ہماری نئی حکومت کو بار بار یہ چیلنج فیس کرنا پڑ رہا ہے‘ کل لاہور میں وزیر ریلوے شیخ رشید کو ریلوے کے چیف کمرشل منیجر کے احتجاج کا سامنا کرنا پڑا‘ شیخ رشید نے سی پیک کے کوآرڈی نیٹر اشفاق خٹک کو کہا‘ آپ مجھے رضیہ بٹ کے ناول نہ سنائیں‘ اشفاق خٹک وائس چانسلر رہے ہیں‘ یہ ہارورڈ یونیورسٹی کے ڈگری ہولڈر ہیں‘ چیف کمرشل منیجر حنیف گل نے شیخ رشید کو ٹوکا ‘ سر آپ کو سینئر لوگوں کے ساتھ عزت سے بات کرنی چاہیے‘ شیخ رشید نے انہیں شٹ اپ کہہ دیا‘ جواب میں حنیف گل نے وزیر کو شٹ اپ کہہ دیا اور دو سال کی چھٹی اپلائی کر دی‘ حنیف گل بھی ایم آئی ٹی اور برمنگھم یونیورسٹی کا انتہائی پڑھا لکھا 20ویں گریڈ کا افسر ہے‘ یہ بیس سال سے ریلوے میں ہے اور اس نے سی پیک کیلئے بھی ریلوے کا پراجیکٹ بنایا تھا‘ یہ ریلوے میں ہو رہا ہے‘

آج وزیراعلیٰ پنجاب کے حکم پر پاکپتن کے ڈی پی او رضوان گوندل کا تبادلہ کر دیا گیا‘ ان کا جرم یہ تھا پولیس نے پیر غنی روڈ کے ناکے پر خاتون اول کے سابق خاوند خاور مانیکا کی گاڑی روکنے کی غلطی کر دی تھی‘ رضوان گوندل کو مانیکا صاحب کے ڈیرے پر جا کر معافی مانگنے کا حکم دیا گیا‘ انہوں نے انکار کر دیا تو ان کا تبادلہ کر دیا گیا‘ یہ دو واقعات حکومت کی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں‘ کیا یہ لوگ اس طریقے سے سسٹم چلا سکیں گے‘ میرا خیال ہے نہیں‘ وزیراعظم عمران خان کو اپنے لوگوں کو روکنا ہوگا

ورنہ حکومت 22 سال کی عزت 22 دنوں میں ضائع کر بیٹھے گی‘ ایسا کیوں ہو رہا ہے‘ یہ ہمارا آج کاایشو ہوگا جبکہ اپوزیشن نے خود کو متحدہ ثابت کرنے کا تیسرا موقع بھی ضائع کر دیا‘ یہ متفقہ صدارتی امیدوار پر متفق نہ ہو سکی‘ پیپلز پارٹی نے اعتزاز احسن جبکہ باقی آدھی اپوزیشن نے مولانا فضل الرحمن کو صدارتی امیدوار بنا دیا‘ متحدہ اپوزیشن متحد کیوں نہیں ہو رہی؟ ہم یہ بھی ڈسکس کریں گے‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…