جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

فوج اور عدلیہ کے خلاف نعرہ بازی کے ذمہ دار کون ہیں؟ن لیگ کے مذاکرات کس سے اور ان کا ایجنڈا کیا ہے؟اپوزیشن کا احتجاج کب تک جاری رہے گا؟ جاوید چودھری کا تجزیہ

datetime 9  اگست‬‮  2018 |

کل الیکشن کمیشن کے سامنے اپوزیشن کے احتجاج کے دوران فوج اور سپریم کورٹ کے خلاف نعرہ بازی کی گئی‘ یہ نعرہ بازی پاکستان پیپلز پارٹی اور اے این پی کے کارکنوں نے کی‘ نعرہ بازی کی فوٹیج کل سے سوشل میڈیا پر چل رہی ہے‘ آج پاکستان پیپلز پارٹی کی کارکن شہزادی کوثر گیلانی اور راجہ امتیاز علی کے خلاف پرچہ بھی درج ہو گیا‘ ان دونوں کے خلاف دہشت گردی کی دفعات بھی لگ گئیں اور یہ بہت جلد گرفتار بھی ہو جائیں گے‘ قانون نافذ کرنے والے ادارے

باقی لوگوں کو بھی پہچاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ احتجاج کرنا ہر شخص کا بنیادی حق ہے‘ کوئی طاقت اور کوئی ادارہ کسی شخص کو اس حق سے محروم نہیں کر سکتا لیکن ریاست اور ریاستی اداروں کی عزت اور تکریم ہر شخص پر فرض ہے‘ فوج اور عدلیہ ہمارے ادارے ہیں‘ ہمیں ان اداروں کا احترام کرنا چاہیے‘ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہو گی‘ اس دھاندلی کے خلاف کمیشن بھی بننا چاہیے‘ تحقیقات بھی ہونی چاہئیں اور اگر کوئی شخص یا ڈیپارٹمنٹ اس کا ذمہ دار پایا جائے تو اس کے خلاف کارروائی بھی ہونی چاہیے لیکن اس کا ہرگز ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم سڑکوں پر اس طرح اپنے اداروں اور ان کے سربراہوں کے خلاف نعرہ بازی کریں اور انہیں برا بھلا کہیں‘ اس سے ریاست کا رہا سہا بھرم ختم ہو جائے گا‘ ریاست مزید کمزور ہو جائے گی‘ میری تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت سے درخواست ہے آپ انشور کریں آپ کے کسی احتجاج کے دوران فوج اور عدلیہ کے خلاف نعرہ نہیں لگے گا کیونکہ ان نعروں سے آپ کے موقف کو تقویت نہیں ملے گی‘ یہ کمزور ہو گا‘ آپ کی عزت میں بھی اس سے اضافہ نہیں ہو گا‘ اس میں کمی آئے گی‘ اس قسم کی نعرہ بازی کے ذمہ دار کون ہیں‘ یہ ہمارا آج کا ایشو ہوگا جبکہ آج میاں شہباز شریف نے اڈیالہ جیل کے سامنے پارلیمانی کمیشن بنانے کا کہا، ن لیگ کے مذاکرات کس کے ساتھ ہو رہے ہیں اور ان مذاکرات کا ایجنڈا کیا ہے؟ ہم یہ بھی ڈسکس کریں گے اور اپوزیشن کا احتجاج آج بھی جاری رہا‘ یہ کب تک جاری رہے گا اور کیا اس مسئلے کا حل پارلیمانی کمیشن ہے‘ یہ بھی آج کے پروگرام میں ڈسکس ہو گا‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…