جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

روسی طیارے کی تباہی ،روسی میڈیانے ترکی کے صدرپرسنگین الزام لگادیا

datetime 25  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

انقرہ (نیوزڈیسک) ترکی کی طرف سے روس کا جنگی طیارہ مار گرائے جانے کے بعد روسی میڈیا میں ترک صدر رجب طیب اردوان اور ان کے قریبی لوگوں پر تنقید، الزامات اور پراپیگنڈہ کا سیلاب امڈ آیا ہے۔ ’نیو ایسٹرن آﺅٹ لک‘ نامی آن لائن جریدے پر بھی مصنف اور تحقیق کار ایف ولیم اینگڈال کا ایک ایسا ہی مضمون شائع ہوا ہے جس میں الزام بازی کرتے ہوئے دعویٰ کردیا گیا ہے کہ ترک صدر کے بیٹے بلال اردوان کا داعش کے ساتھ قریبی گٹھ جوڑ ہے اور وہ داعش کا غیر قانونی تیل سمگل کرنے والے نمایاں ترین کردار ہیں۔مصنف کا کہنا ہے کہ داعش کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ اس کے زیر قبضہ علاقے میں تیل کی فروخت ہے، جسے ممکن بنانے کے لئے سب سے اہم کردار رجب طیب اردوان کے صاحبزادے بلال طیب اردوان ادا کرتے ہیں۔ رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ ترک صدر کے صاحبزادے کئی بحری کمپنیوں کے مالک ہیں جنہیں داعش سے خام تیل لے کر یورپی و ایشیائی ملکوں کو بیچنے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے، جبکہ ترکی خود بھی داعش سے تیل سمگل کررہا ہے۔ رپورٹ میں ترک صدر کی صاحبزادی سمعیہ اردوان پر بھی الزامات عائد کئے گئے ہیں کہ شامی سرحد کے قریب ان کی نگرانی میں چلنے والے خفیہ ہسپتال میں داعش کے زخمی جنگجوﺅں کو علاج کی غرض سے لایا جاتا ہے۔ اگرچہ اس قسم کے الزامات کے کوئی بھی شواہد تاحال سامنے نہیں لائے گئے لیکن اس کے باوجود روسی اور روس نواز میڈیا میں ترک صدر اور ان کے رفقا ءکو داعش کے سب سے بڑے حمایتی اور پش پناہی کرنے والے قرار دینے کا سلسلہ جاری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…