اتوار‬‮ ، 08 فروری‬‮ 2026 

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کیلیے پاکستانی امیدوں کا چراغ پھر روشن ہونے لگا

datetime 4  ‬‮نومبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)ورلڈ کپ سے قبل پاکستانی ٹیم کی امیدوں میں ایک بار پھر جان پڑ گئی ہے، جنوبی افریقہ کے خلاف ٹی 20 سیریز میں فتح نے گرین شرٹس کے حوصلوں کو نئی توانائی بخشی ہے۔ بابراعظم کی شاندار اننگز نے بیٹنگ لائن کے بارے میں خدشات کم کر دیے، جبکہ فہیم اشرف نے آل راؤنڈر کی حیثیت سے خود کو ایک مؤثر اور متوازن کھلاڑی ثابت کیا۔کپتان سلمان علی آغا کا کہنا ہے کہ کھیل کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالنا کامیابی کی اصل کنجی ہے۔ ان کے مطابق پاکستانی ٹیم نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ کم بیک کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ شوپیس ایونٹ سے قبل تمام کھلاڑیوں نے اپنی ذمہ داریوں کو بہتر طور پر سمجھ لیا ہے۔بابراعظم نے تیسرے اور فیصلہ کن ٹی 20 میچ میں 68 رنز کی اننگز کھیل کر پاکستان کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔ انہیں مین آف دی میچ بھی قرار دیا گیا۔ میچ کے بعد انہوں نے کہا کہ “میں کافی عرصے سے ایک اچھی اننگز کا منتظر تھا، خوشی ہے کہ ٹیم کے لیے پرفارم کر سکا۔ دباؤ ہر مرحلے پر ہوتا ہے، اصل بات یہ ہے کہ اس سے نمٹنے کا طریقہ کیا ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ “میں نے خود پر اعتماد رکھا اور کمزوریوں پر کام کیا۔ ابتدا میں اسپنرز کے خلاف کھیلنا مشکل تھا، اس لیے میں اور سلمان نے فیصلہ کیا کہ اسپنرز کو محتاط انداز میں کھیلیں اور کریز پر وقت گزاریں۔

یہی منصوبہ کامیاب رہا۔” بابراعظم نے لاہور کے شائقین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ “یہ اننگز ان کے نام ہے، امید ہے وہ ہمیشہ ٹیم کے ساتھ ایسے ہی کھڑے رہیں گے۔”پلیئر آف دی سیریز کا اعزاز حاصل کرنے والے فہیم اشرف نے کہا کہ “میری ٹیم میں ایک واضح ذمہ داری ہے اور میں ہر شعبے میں ٹیم کے لیے بہترین کارکردگی دکھانے کی کوشش کرتا ہوں، چاہے وہ بیٹنگ ہو، بولنگ یا فیلڈنگ۔ اگر موقع نہ بھی ملے تو میں فیلڈنگ میں اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کرتا ہوں۔”انہوں نے مزید کہا کہ “بطور بولر میرے لیے ایک فائدہ یہ ہے کہ میں بیٹر کی سوچ کو سمجھ سکتا ہوں، یہی چیز بولنگ کے دوران میرے لیے مددگار ثابت ہوتی ہے۔ میں ہمیشہ ٹیم کی ضرورت کے مطابق خود کو ڈھالنے کے لیے تیار رہتا ہوں۔”سیریز جیتنے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کپتان سلمان علی آغا نے کہا کہ “ایک اچھی ٹیم وہی ہوتی ہے جو اپنی کارکردگی میں تسلسل برقرار رکھے۔

ٹی 20 ورلڈ کپ میں ابھی چند ماہ باقی ہیں اور کھلاڑی اپنی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہیں۔ اب وقت ہے کہ انہیں عملی طور پر ثابت کیا جائے۔”انہوں نے مزید کہا کہ “پہلے میچ میں شکست کے بعد ہم نے بہترین انداز میں واپسی کی اور سیریز اپنے نام کی، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ٹیم کبھی ہار نہیں مانتی۔ آنے والے میچز میں ہمیں اپنی کارکردگی میں مزید تسلسل لانا ہوگا۔”پاکستان کی یہ فتح نہ صرف سیریز جیتنے کا باعث بنی بلکہ ورلڈ کپ کے لیے اعتماد بحال کرنے میں بھی اہم سنگِ میل ثابت ہوئی ہے۔ ٹیم مینجمنٹ کے مطابق اگلے چند ہفتوں میں مزید میچز کھیل کر کھلاڑیوں کو مکمل طور پر ورلڈ کپ کے لیے تیار کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بٹرفلائی افیکٹ


وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…