ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کیلیے پاکستانی امیدوں کا چراغ پھر روشن ہونے لگا

datetime 4  ‬‮نومبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)ورلڈ کپ سے قبل پاکستانی ٹیم کی امیدوں میں ایک بار پھر جان پڑ گئی ہے، جنوبی افریقہ کے خلاف ٹی 20 سیریز میں فتح نے گرین شرٹس کے حوصلوں کو نئی توانائی بخشی ہے۔ بابراعظم کی شاندار اننگز نے بیٹنگ لائن کے بارے میں خدشات کم کر دیے، جبکہ فہیم اشرف نے آل راؤنڈر کی حیثیت سے خود کو ایک مؤثر اور متوازن کھلاڑی ثابت کیا۔کپتان سلمان علی آغا کا کہنا ہے کہ کھیل کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالنا کامیابی کی اصل کنجی ہے۔ ان کے مطابق پاکستانی ٹیم نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ کم بیک کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ شوپیس ایونٹ سے قبل تمام کھلاڑیوں نے اپنی ذمہ داریوں کو بہتر طور پر سمجھ لیا ہے۔بابراعظم نے تیسرے اور فیصلہ کن ٹی 20 میچ میں 68 رنز کی اننگز کھیل کر پاکستان کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔ انہیں مین آف دی میچ بھی قرار دیا گیا۔ میچ کے بعد انہوں نے کہا کہ “میں کافی عرصے سے ایک اچھی اننگز کا منتظر تھا، خوشی ہے کہ ٹیم کے لیے پرفارم کر سکا۔ دباؤ ہر مرحلے پر ہوتا ہے، اصل بات یہ ہے کہ اس سے نمٹنے کا طریقہ کیا ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ “میں نے خود پر اعتماد رکھا اور کمزوریوں پر کام کیا۔ ابتدا میں اسپنرز کے خلاف کھیلنا مشکل تھا، اس لیے میں اور سلمان نے فیصلہ کیا کہ اسپنرز کو محتاط انداز میں کھیلیں اور کریز پر وقت گزاریں۔

یہی منصوبہ کامیاب رہا۔” بابراعظم نے لاہور کے شائقین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ “یہ اننگز ان کے نام ہے، امید ہے وہ ہمیشہ ٹیم کے ساتھ ایسے ہی کھڑے رہیں گے۔”پلیئر آف دی سیریز کا اعزاز حاصل کرنے والے فہیم اشرف نے کہا کہ “میری ٹیم میں ایک واضح ذمہ داری ہے اور میں ہر شعبے میں ٹیم کے لیے بہترین کارکردگی دکھانے کی کوشش کرتا ہوں، چاہے وہ بیٹنگ ہو، بولنگ یا فیلڈنگ۔ اگر موقع نہ بھی ملے تو میں فیلڈنگ میں اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کرتا ہوں۔”انہوں نے مزید کہا کہ “بطور بولر میرے لیے ایک فائدہ یہ ہے کہ میں بیٹر کی سوچ کو سمجھ سکتا ہوں، یہی چیز بولنگ کے دوران میرے لیے مددگار ثابت ہوتی ہے۔ میں ہمیشہ ٹیم کی ضرورت کے مطابق خود کو ڈھالنے کے لیے تیار رہتا ہوں۔”سیریز جیتنے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کپتان سلمان علی آغا نے کہا کہ “ایک اچھی ٹیم وہی ہوتی ہے جو اپنی کارکردگی میں تسلسل برقرار رکھے۔

ٹی 20 ورلڈ کپ میں ابھی چند ماہ باقی ہیں اور کھلاڑی اپنی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہیں۔ اب وقت ہے کہ انہیں عملی طور پر ثابت کیا جائے۔”انہوں نے مزید کہا کہ “پہلے میچ میں شکست کے بعد ہم نے بہترین انداز میں واپسی کی اور سیریز اپنے نام کی، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ٹیم کبھی ہار نہیں مانتی۔ آنے والے میچز میں ہمیں اپنی کارکردگی میں مزید تسلسل لانا ہوگا۔”پاکستان کی یہ فتح نہ صرف سیریز جیتنے کا باعث بنی بلکہ ورلڈ کپ کے لیے اعتماد بحال کرنے میں بھی اہم سنگِ میل ثابت ہوئی ہے۔ ٹیم مینجمنٹ کے مطابق اگلے چند ہفتوں میں مزید میچز کھیل کر کھلاڑیوں کو مکمل طور پر ورلڈ کپ کے لیے تیار کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…