جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

روس کا مارگرایا گیا لڑاکا جیٹ شام کی حدود میں تھا، امریکہ

datetime 25  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

واشنگٹن(نیوزڈیسک)امریکا نے یقین ظاہر کیا ہے کہ منگل کے روز ترک ایف سولہ طیاروں کی کارروائی میں مارگرایا گیا روس کا لڑاکا جیٹ شام کی فضائی حدود میں پرواز کررہا تھا۔یہ بات ایک امریکی عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہی ہے۔البتہ اس نے یہ تسلیم کیا ہے کہ اس روسی طیارے نے مختصر وقت کے لیے ترکی کی فضائی حدود میں دراندازی کی تھی۔اس عہدے دار نے برطانوی خبررساں ادارے کے ساتھ بدھ کے روز گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نتیجہ لڑاکا جیٹ کی گرمی کی علامت کا سراغ لگانے کے بعد اخذ کیا گیا ہے۔ترکی کا کہنا ہے کہ اس روسی طیارے کو پانچ منٹ کے دورانیے میں فضائی حدود کی خلاف ورزیوں پر دس مرتبہ خبردار کیا گیا تھا۔ترکی کے ایک سینئر عہدےدار کے بقول دو روسی طیارے ہمارے سرحدی علاقے کی جانب آئے تھے۔ہم نے انھیں سرحد کے نزدیک آنے اور ترکی کی فضائی حدود میں داخل ہونے پر متعدد مرتبہ خبردار کیا مگر انھوں نے جان بوجھ کر فضائی حدود کی خلاف ورزی جاری رکھی تھی جس کے بعد ایک طیارے کو مار گرایا گیا تھا۔روسی فوج کے ایک جنرل نے بتایا ہے کہ طیارے کے دو ہوابازوں میں سے ایک ہلاک ہوگیا ہے۔ دوسرے پائلٹ کو ترکمن فورسز نے پکڑ لیا تھا اور وہ اس وقت ان کے پاس ہے۔سی این این ترک کی رپورٹ کے مطابق دوسرے پائیلٹ کی تلاش کی جارہی ہے لیکن روسی جنرل نے اس کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔درایں اثناءامریکی فوج کے ترجمان کرنل اسٹیو وارن نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ترکی نے طیارے کو گرانے سے قبل روسی پائلٹوں کو متعدد مرتبہ خبردار کیا تھا لیکن انھوں نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ترجمان کا کہنا تھا کہ ”ہم یہ تمام گفتگو سن سکتے تھے کیونکہ یہ اوپن چینلز پر ہورہی تھی۔جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا وہ اس بات کی تصدیق کرسکتے ہیں کہ ترک پائیلٹوں نے دس مرتبہ روسی ہوابازوں کو انتباہ کیا تھا لیکن انھوں نے اس کا جواب نہیں تھا۔اس کے جواب میں کرنل وارن نے کہا کہ ”ہاں میں اس کی تصدیق کرسکتا ہوں۔البتہ تب فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا تھا کہ روسی طیارے شام ،ترکی سرحد کے کس جانب پرواز کررہے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…