جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

خیبرپختونخوا، تحریک انصاف کی حکومت میں ڈینگی سے شرح اموات صفر ہوگئی

datetime 25  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) خیبر پختونخوا(کے پی کے) میں تحریک انصاف کو صوبائی حکومت ملنے کے بعد صو بے میں ڈینگی وائرس سے اموات کی شرح صفر ہوگئی، جبکہ متاثرہ مریضوں کی تعداد میں بھی بڑی حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ دوسری جانب پنجاب حکومت ڈینگی وائرس کی وباء کو کنٹرول کرنے کیلئے جدوجہد کررہی ہےاور رواں برس ڈینگی سے 7اموات ہوچکی ہیں، اسی عرصے کے دوران خیبرپختونخوا میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔روزنامہ جنگ کے صحافی وسیم عباسی کی رپورٹ کے مطابق ڈی جی ہیلتھ سروسز کے پی کے کی جانب سے فراہم کی جانیوالی مصدقہ معلومات کے مطابق 2013اس ضمن میں صوبے کیلئےانتہائی برا ثابت ہوا، جس میں ڈینگی کے 43مریض ہلاک ہوئے ۔ یہ وہ سال تھا جب صوبے میں تحریک انصاف کی حکومت آئی تھی۔ کے پی کے رائٹ ٹو انفارمیشن لاء کے تحت جاری کیے جانیوالے دستاویزات کے مطابق گزشتہ 2 سالوں میں ڈینگی وائرس سے کوئی مریض جان سے نہیں گیا۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق 2013میں صوبے میں ڈینگی وائرس کے 11818کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ 2014میں صرف 908افراد ڈینگی سے متاثر ہوئےاور رواں برس صوبے میں اب تک 2040افراد ڈینگی وائر س کا شکار ہوچکے ہیں۔ تاہم 2014اور2015میں صوبے میں ڈینگی وائرس سے کوئی موت واقع نہیں ہوئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…