جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

معذور عبد الباسط کی پھانسی موخر

datetime 25  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) صدر مملکت ممنون حسین نے پھانسی کی سزا پانے والے قیدی معذور عبد الباسط ولد اللہ دتہ کی سزائے موت پر عملدرآمد 2 ماہ کے لیے روک دیا۔خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق صدر ممنون حسین نے عبد الباسط کی سزا پر عمل درآمد روکنے کا حکم قیدی کی علالت کے باعث دیا۔انہوں نے فیصل آباد جیل کے قیدی کی صحت کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے انکوائری کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کی بالا دستی کو ہر صورت میں برقرار رکھا جائے گا۔واضح رہے کہ 43 سالہ عبد الباسط کو 2009 میں ایک قتل کیس میں سزائے موت سنائی گئی تھی، تاہم وہ اپنی بے گناہی پر اصرار کرتے ہیں۔عبدالباسط کی پھانسی اس سے قبل بھی متعدد بار مختلف انسانی حقوق کی تنظمیوں کے احتجاج کے باعث ملتوی کی جا چکی ہے، پھانسی ملتوی ہونے کی وجہ ان کا بیماری کے باعث وہیل چیئر کا استعمال ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق عبد الباسط فیصل آباد سینٹرل جیل میں غیر انسانی حالات کی وجہ سے 2010 میں معذور ہو گئے تھے۔انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا تھا کہ ٹی بی کی تشخیص کے باوجود عبد الباسط کو مناسب طبی سہولیات فراہم نہیں کی گئیں جس کی وجہ سے ان کی ریڑھ کی ہڈی شدید متاثر ہوئی۔پاکستان کی جانب سے سزائے موت پر عمل درآمد کو انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے جاری اعلامیے کے مطابق اب تک پاکستان میں 299 افراد کو پھانسی دی جا چکی ہے۔خیال رہے کہ پاکستان نے گزشتہ برس 16 دسمبر 2014 کو پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد پھانسی پر عائد غیر اعلانیہ پابندی ختم کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…