جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

اوباما کا طیب اردوان سے رابطہ، کشیدگی کم کرنے پر اتفاق

datetime 25  ‬‮نومبر‬‮  2015 |
WASHINGTON, DC - JUNE 26: U.S. President Barack Obama gives remarks on the Supreme Court ruling on gay marriage, in the Rose Garden at the White House June 26, 2015 in Washington, DC. Today the high court ruled that same-sex couples have the right to marry in all 50 states. (Photo by Mark Wilson/Getty Images)

واشنگٹن(نیوز ڈیسک)روس اور ترکی درمیان روسی جنگی طیارہ مار گرانے کے بعد امریکی صدر براک اوباما اور ترکی کے صدر طیب اردوگان کے درمیان بات ہوئی ہے جس میں کشیدگی کم کرنے کا اعادہ کیا گیا ہے۔ ترکی کے صدارتی دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنما کشیدگی کم کرنے کے علاوہ ایسے واقعات کے دوبارہ نہ ہونے کے لیے اقدامات کرنے پر متفق ہوئے ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس قسم کے واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں۔ اس واقعہ کے بعد امریکی صدر براک اوباما کا کہنا تھا کہ ترکی کو اپنی سرزمین اور فضائی حدود کا دفاع کرنے کا حق ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ حالیہ واقعہ ان مسائل کی جانب اشارہ کرتا ہے جو شام میں روسی فوجی کارروائیوں کے باعث پیدا ہو رہے ہیں۔ صدر اوباما نے کہا کہ اس واقعے کی تفصیلات جاننا ضروری ہیں اور ایسے اقدام کیے جائیں جس سے کشیدگی میں کمی واقع ہو۔ تاہم امریکہ اور نیٹو کی جانب سے کسی ملک کی فضائی حدود میں جہاز کے گرائے جانے کے بارے میں متضاد بیانات سامنے آئے ہیں۔ امریکی وزارت دفاع پینٹاگون کا کہنا ہے کہ امریکہ اس وقت حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتا کہ مار گرایا جانے والا روسی طیارہ کس ملک کی فضائی حدود میں موجود تھا۔ تاہم نیٹو کے سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ واقعے کے حوالے سے اتحادیوں کے تجزیے کے مطابق روسی جنگی جہازوں نے ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…