بدھ‬‮ ، 29 جولائی‬‮ 2026 

یونیورسٹی آف واشنگٹن میں موسیقی کی تربیت دینے والا صدی کا عظیم ترین گلوکار پاکستانی استاد

datetime 13  اکتوبر‬‮  2017 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) استاد نصرت فتح علی خان 13 اکتوبر 1948 کو قوال گھرانے میں آنکھ کھولی۔ نصرت فتح علی خان کے والد فتح علی خان اور تایا مبارک علی خان اپنے وقت کے مشہور قوال تھے۔ ان کے خاندان نے قیام پاکستان کے وقت مشرقی پنجاب کے ضلع جالندھر سے ہجرت کر کے فیصل آباد میں سکونت اختیار کی تھی۔ استاد نصرت فتح علی خان نے اپنی تمام عمر قوالی کے فن کو سیکھنے اور اسے مشرق و مغرب میں

مقبول عام بنانے میں صرف کر دی۔انہوں نے صوفیائے کرام کے پیغام کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچایا اور ان کے فیض سے خود انہیں بے پناہ شہرت نصیب ہوئی۔ ان کی مشہور قوالی علی مولا علی ایک یادگار ہے۔ بعد میں انہوں نے لوک شاعری اور اپنے ہم عصر شعراء کا کلام اپنے مخصوص انداز میں گا کر ملک کے اندر کامیابی کے جھنڈے گاڑے اور اس دور میں سن چرخے دی مٹھی مٹھی مٹھی کوک ماہی مینوں یاد آوندا اور سانسوں کی مالا میں سمروں میں پی کا نام نے عام طور پر قوالی سے لگاؤ نہ رکھنے والے طبقے کو اپنی طرف راغب کیا اور یوں نصرت فتح علی خان کا حلقہ اثر وسیع تر ہو گیا۔نصرت فتح علی خان صحیح معنوں میں شہرت کی بلندیوں پر اس وقت پہنچے جب پیٹر گبریل کی موسیقی میں گائی گئی ان کی قوالی دم مست قلندر مست مست ریلیز ہوئی۔ اس مشہور قوالی کے منظر عام آنے سے پہلے وہ امریکہ میں بروکلن اکیڈمی آف میوزک کے نیکسٹ ویوو فیسٹول میں اپنے فن کے جوہر دکھا چکے تھے لیکن دم مست قلندر مست مست کی ریلیز کے بعد انہیں یونیورسٹی آف واشنگٹن میں موسیقی کی تدریس کی دعوت دی گئی۔بین الاقومی سطح پر صحیح معنوں میں ان کا تخلیق کیا ہوا پہلا شاہکار 1995ء میں ریلیز ہونے والی فلم ڈیڈ مین واکنگ کا ساؤنڈ ٹریک تھا بعد میں انہوں نے ہالی وڈ کی فلم دی لاسٹ ٹیمپٹیشن آف کرائسٹ اور بالی وڈ میں پھولن دیوی کی زندگی پر بننے والی

متنازع فلم بینڈٹ کوئین کے لئے بھی موسیقی ترتیب دی۔ نصرت فتح علی خان نے جدید مغربی موسیقی اور مشرقی کلاسیکی موسیقی کے ملاپ سے ایک نیا رنگ پیدا کیا اور نئی نسل کے سننے والوں میں کافی مقبولیت حاصل کی۔



کالم



ہمارا امیرالعظیم


امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…