بدھ‬‮ ، 20 مئی‬‮‬‮ 2026 

ٹی وی کمرشل، ڈرامہ اورفلم کی وجہ سے بہت پذیرائی ملی‘ آرمینا رانا خان

datetime 20  جون‬‮  2016 |

لاہور(این این آئی) معروف اداکارہ وماڈل ارمینا رانا خان نے کہاہے کہ بالی وڈ سمیت دنیا کے بیشترممالک میں کام کیا، لیکن جومزہ پاکستان میں کام کرکے آیا اورجوپہچان ملی وہ اس سے پہلے نہ تھی۔ ٹی وی کمرشل، ڈرامہ اورفلم کی وجہ سے بہت پذیرائی ملی۔معروف اداکارہ وماڈل ارمینا رانا خان نے اپنے ایک انٹرویو میں کیا۔ انھوں نے کہا کہ فنون لطیفہ کے مختلف شعبوں میں کام کرتے ہوئے بہت کچھ سیکھا۔ میں نے اپنے کیرئیرکا آغاز برطانیہ اورکینیڈا سے کیا اوراس کے ساتھ ساتھ بالی وڈ میں بھی کام کا سلسلہ شروع ہوا۔ لیکن میں نے ہمیشہ سے یہ سوچ رکھا تھا کہ پاکستان سے جب بھی کوئی اچھا پراجیکٹ آفر ہوگا توضرورکام کرونگی۔ ان کا کہنا تھا کہ مغرب اورمشرق کے کام میں توواضح فرق ہے لیکن جس طرح سے پاکستانی ڈراموں اورفلموں کے ذریعے موجودہ دور میں ثقافت کوپروموٹ کیا جارہا ہے ، اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔بطورماڈل یہاں پرانٹری ہوئی توپھر ٹی وی ڈراموں اورموجودہ دورمیں بننے والی جدید ٹیکنالوجی کی فلموں سے بھی پیشکش ہونے لگی۔ ٹی وی ڈراموں میں بہت ہی جاندار کردارملے اورپھریہاں پرکام کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اس وقت بہت سے پروڈکشن ہاؤسز کے ڈرامے اورفلموں کا حصہ بن چکی ہوں۔ میرے آن ائیرہونے والے ڈراموں اورفلم کی بدولت اچھا رسپانس ملا اوران گنت پراجیکٹس کی آفرز بھی ہوئی ، جن میں سے کچھ کے چیلنجنگ کردار میں نے سائن کیے اوربقیہ کوقبول کرنے سے معذرت کرلی۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ مجھے ہمیشہ تعداد کی نہیں بلکہ معیاری کام کی تلاش رہتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت اگرمیں چاہوں توتمام پرائیویٹ پروڈکشن ہاؤسز کے ڈرامہ سیریلز اوردیگرپراجیکٹس میں دکھائی دوں لیکن میں ایسا نہیں کرسکتی۔ ایک سوال کے جواب میں ارمینا رانا خان نے کہا کہ ہالی وڈ ، بالی وڈ اورپاکستان میں کام کا فرق توواضح ہے کیونکہ وہاں جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ نت نئے آئیڈیاز پربھی کام ہورہا ہے جب کہ پاکستان میں اس وقت فلم کا نیا دورشروع ہوا ہے۔یہاں پرپڑھے لکھے لوگ کام کرنے کے لیے آرہے ہیں اوران کی بدولت پاکستانی فلم ایک دن انٹرنیشنل مارکیٹ تک پہنچ جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…