بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

گوگل نے موت کے بعد بھی کارکنوں کیلئے مراعات متعارف کرا دیں

datetime 25  مئی‬‮  2024 |

نیویارک(این این آئی)گوگل جیسا عالمی ادارہ جہاں اپنے فیچرز اور نت نئے ٹیکنالوجیکل ٹولز کی بنا پر عالمی مارکیٹ میں صارفین کی توجہ حاصل کر لیتا ہے، وہیں خود ادارے کے ملازمین کا بھی خوب خیال رکھتا دکھائی دیتا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک خبر وائرل ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ گوگل کے مرحوم ملازمین کو ادارہ کیسے سپورٹ کر رہا ہے۔گوگل اپنے وفات پا جانے والے ملازمین کے لیے ڈیتھ بینیفٹس رکھتا ہے، جو کہ ملازم کی بیوہ کو یا ڈومیسٹک پارٹنر کو ملازم کی موت کے بعد 10 سال تک ملتے رہتے ہیں۔چیف پیپل آفیسر کی جانب سے اس حوالے سے معلومات شئیر کی گئی تھیں، ملازم کی موت کے بعد بیوہ کو ملازم کی تنخواہ کا 50 فیصد حصہ 10 سال تک دیا جاتا ہے۔

جبکہ ملازم کے بچوں کو 19 سال کی عمر تک ماہانہ 1 ہزار ڈالرز جو کہ پاکستانی 27 لاکھ سے زائد کی رقم بنتی ہے دیے جاتے ہیں۔ جبکہ طالب علم ہونے کی صورت میں 23 کی عمر تعلیم کے حوالے سے سپورٹ کیا جاتا ہے۔حیرت انگیز طور پر یہ فوائد محض مستقل ملازمین کے لیے ہی نہیں ہیں، بلکہ اس حوالے سے کوئی ٹینور کی ضرورت نہیں ہے، دوسری جانب فوربز کی جانب سے اس حوالے سے رپورٹ بھی پبلش ہوئی تھی۔جس میں دعوی کیا گیا تھا کہ گوگل اپنے مر جانے والے ملازم کے گھر والوں کو مفت کھانا، فوزبال ٹیبلز، آن سائٹ ڈرائی کلیننگ سروس سمیت کئی دیگر فوائد بھی دیتا ہے۔دوسری جانب ملازم کو میٹرنٹی اور پیٹرنٹی چھٹیوں کے فوائد بھی دیے جاتے ہیں، باپ بننے والے ملازمین کو 6 ہفتوں کی پیڈ لیوو دی جاتی ہیں جبکہ ملازمہ ماں بچے کی پیدائش کے بعد 18 ہفتوں کی چھٹیاں کر سکتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…