ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

مٹی سے بجلی حاصل کرنے والا نیا آلہ دریافت

datetime 18  جنوری‬‮  2024 |

منیسوٹا(این این آئی) سائنس دانوں نے ایک نئی قسم کا فیول سیل بنایا ہے جو مٹی سے لامحدود مقدار میں بجلی حاصل کر سکتا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے نے بتایاکہ امریکا کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کی ایک ٹیم کے مطابق کتاب کے سائز کے اس یونٹ کو کاشتکاری میں استعمال کیے جانے والے سینسرز کو توانائی دینے کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔یہ ٹیکنالوجی مٹی میں قدرتی طور پر موجود بیکٹیریا سے بجلی بنا کر کام کرتے ہوئے زہریلی اور آتش گیر بیٹریوں کا پائیدار اور قابلِ تجدید متبادل پیش کر سکتی ہے۔

جامعہ میں سول اور ماحولیاتی انجینئرنگ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر جورج ویلز کے مطابق یہ بیکٹیریا ہر جگہ ہوتے ہیں، یہ مٹی میں ہر جگہ رہتے ہیں۔ ہم ہر سادہ سے انجینئرڈ سسٹم کو استعمال کرتے ہوئے بجلی حاصل کر سکتے ہیں۔ اس بجلی کو شہر میں تو فراہم نہیں کیا جاسکتا لیکن قلیل مقدار میں حاصل ہونے والی بجلی سے کم طاقت والی اشیاء چلائی جاسکتی ہیں۔یہ مائیکروبائل فیول سیل (ایم ایف سی) 113 سال پْرانی ٹیکنالوجی پر مبنی ہے جس کو پہلی بار برطانوی نباتیات دان مائیکل کریس پوٹر نے بنایا تھا۔

مائیکل وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے مائیکرو حیاتیات سے کامیابی کے ساتھ بجلی بنائی تھی۔سائنس دانوں نے تازہ ترین فیول سیل کو خشک اور مرطوب کیفیات میں مٹی میں نمی کی پیمائش کرنے والے اور چھونے کی نشان دہی کرنیو الے سینسر کو توانائی فراہم کر کے آزمایا۔ فیول سیل نے اس سے مشابہ ٹیکنالوجی کی نسبت 120 فی صد بہتر نتائج فراہم کئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…