پاکستان نے کئی ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا، 60نہیں صرف20سیکنڈ میں کرونا وائرس کا پتہ چلانے والا جدید آلہ تیار

  بدھ‬‮ 25 مارچ‬‮ 2020  |  14:52

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستانی طلبا نے 20 سیکنڈ میں کرونا وائرس کی تشخیص کا آلہ بنا دیا۔تفصیلات کے مطابق 2 پاکستانی طلباء نے کورونا وائرس کی جلد تشخیص کے لئے سسٹم ڈییکٹر بنایا ہے جو پھیپھڑوں کے کمپیوٹرز ٹوموگرافی (سی ٹی اسکین) سے وائرس کو شناخت کر لے گا۔غلام اسحٰق انسٹیٹیوٹ صوابی میں زیرتعلیم مکینیکل انجینئر محمد علی اور ان کے ساتھی کمپیوٹر انجینئرنگ کے طالب علم راہول راج نے یہ آلہ بنایا ۔طالب علموں کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس بہت تیزی سے پھیل رہا ہے اس لیے انہوں نے وائرس کی تشخیص کے لیے درکار کٹس کی کمی کو


مدنظر رکھتے ہوئے آرٹیفیشل انٹیلیجنس ٹول سے مدد لینے کا فیصلہ کیا۔ان کا دعویٰ ہے کہ ان کے بنائے گئے ماڈل کے ذریعے پھیپڑوں کے سٹی اسکین کرکے کورونا وائرس کی موجودگی کی تشخیص 92 فیصد تک ہوسکتی ہے اور یہ عمل 10 سے 20سکینڈ میں مکمل ہو جائے گا۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

ایک قیمتی سوال

چارلس ٹی میٹکلف  1785ءمیں کلکتہ میں پیدا ہوا تھا‘ والد ایسٹ انڈیا کمپنی میں ڈائریکٹر تھا اور کلکتہ میں تعینات تھا‘ چارلس نے لندن سے تعلیم حاصل کی اور 1801ءمیں واپس آ کر کمپنی کی نوکری کر لی‘ وہ بنگال کے گورنر جنرل لارڈ ویسلے کا پرائیویٹ سیکرٹری تھا‘ برطانیہ اس وقت نپولین بونا پارٹ سے لڑ رہا ....مزید پڑھئے‎

چارلس ٹی میٹکلف  1785ءمیں کلکتہ میں پیدا ہوا تھا‘ والد ایسٹ انڈیا کمپنی میں ڈائریکٹر تھا اور کلکتہ میں تعینات تھا‘ چارلس نے لندن سے تعلیم حاصل کی اور 1801ءمیں واپس آ کر کمپنی کی نوکری کر لی‘ وہ بنگال کے گورنر جنرل لارڈ ویسلے کا پرائیویٹ سیکرٹری تھا‘ برطانیہ اس وقت نپولین بونا پارٹ سے لڑ رہا ....مزید پڑھئے‎