منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

’ہمارے نظام شمسی میں داخل ہونے والا سیارچہ دوسرے نظام شمسی سے آیا‘

datetime 22  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(ویب ڈیسک) سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ نظام شمسی میں داخل ہونے والا یہ سیارچہ ممکنہ طور پر ایسا پہلا سیارچہ ہے جو دوسرے نظام شمسی سے ہمارے نظام شمسی میں داخل ہوا اور اس کا زمین سے مشاہدہ کیا گیا۔اس سے قبل اس شیارچے کے بارے میں خیال تھا کہ یہ ایک دمدار ستارہ ہے۔ اس سیارچے کو ‘اے 2017 یو ون’ (A/2017 U1) کا نام دیا گیا ہے۔ سیارہ تلاش کریں

اور اپنی مرضی کا نام دیں زمین جیسے حجم والے سات سیاروں کی دریافت سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس سیارچے کا قطر 1300 فٹ ہے۔اس سیارچے کو سب سے پہلے ہوائی میں واقع ٹیلی سکوپ کے ذریعے دریافت کیا گیا۔ ماہر فلکیات کا کہنا ہے کہ یہ سیارچہ لیرا نامی ستاروں کے جھرمٹ کی جانب سے ہمارے نظام شمسی میں پچیس اشاریہ پانچ 25.5 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے داخل ہوا۔ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ ہمارے نظام شمسی میں داخل ہونے سے قبل یہ باقی سیاروں کے قریب سے نہیں گزرا۔سورج کی کشش ثقل کے باعث یہ سیارچہ زمین سے 24 ملین کلو میٹر کے فاصلے سے گزرا۔ ماہر فلکیات کا کہنا ہے کہ یہ سیارچہ 44 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے واپس روانہ ہو گیا ہے اور اب یہ پگاسس نامی ستاروں کے جھرمٹ کی جانب سفر کر رہا ہے۔ ہوائی کے انسٹی ٹیوٹ فار ایسٹرانومی کے ڈاکٹر راب کا کہنا ہے ‘اس سیارچے کے سفر کی وضاحت کرنا مشکل ہے۔’امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے ڈاکٹر ڈیوڈ فرنوکیا کا کہنا ہے جو سفر اس سیارچے نے اختیار کیا ہے وہ نہایت مشکل ہے اور میں نے ایسا سفر پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ سیارچہ اب ہمارے نظام شمسی سے باہر کی جانب جا رہا ہے اور یہ کبھی واپس نہیں آئے گا۔’ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بارے میں پہلے بات ہوتی رہی ہے کہ ہمارے نظام شمسی سے باہر ایسے سیارچے یا دمدار ستارے موجود ہیں لیکن اس کا مشاہدہ پہلی بار کیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…