بدھ‬‮ ، 08 اپریل‬‮ 2026 

دنیا بھر کی کمپنیاں ایک بار پھر سائبر حملے کی زد میں

datetime 15  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(ویب ڈیسک) دنیا بھر کی متعدد کمپنیوں کا کہنا ہے کہ انھیں ‘رینسم ویئر’ نامی سائبر حملوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے جن میں برطانوی تشہری ایجنسی ڈبلیو پی پی بھی شامل ہے۔ برطانوی تشہری ایجنسی ڈبلیو پی پی کا کہنا ہے کہ اس سائبر حملے سے اس کا آئی ٹی نظام متاثر ہوا ہے۔

یوکرائن کی کمپنیاں اس سائبر حملے سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔ وانا کرائی وائرس کے پیچھے ’ممکنہ طور پر شمالی کوریا‘کیا آپ کا کمپیوٹر خطرے میں ہے؟ ادھر امریکہ کی قومی سلامتی کونسل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومتی ایجنسیاں اس سائبر حملے کی تحقیقات کر رہی ہیں اور ‘امریکہ اس کے ذمہ داروں کو جواب دہ ٹھہرانے کے لیے پر عزم ہے۔’امریکہ کی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے اس وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اس وائرس کا معاوضہ ادا نہ کریں کیونکہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ ادائیگی کے بعد ان کی فائلز تک رسائی بحال ہو جائے گی۔روس کی اینٹی وائرس کمپنی کیسپرسکائی لیب کا کہنا ہے کہ تجزیوں سے اس بات کا پتہ چلا ہے کہ اس وائرس سے دنیا بھر میں تقربیاً 2,000 سائبر حملے کیے گئے ہیں جن میں یوکرین، روس اور پولینڈ بھی شامل ہیں۔ انٹرپول کا کہنا ہے کہ وہ اس صورتِ حال کا ‘قریبی جائزہ’ لینے کے ساتھ ساتھ ممبر ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے۔ اس سائبر حملے سے سب سے زیادہ یوکرائن متاثر ہوا ہے جہاں توانائی کی تقسیم کے سرکاری ادراوں اور بینک کے کمپیوٹر نظام سمیت کئی کمپنیاں بری طرح اس حملے کا نشانہ بنیں۔ دارالحکومت کیف کی میٹرو میں ادائیگیاں کرنے والے کارڈ سسٹم کام نہیں کر رہے جبکہ بہت سے پٹرول سٹیشنوں کو اپنا کام بند کرنا پڑا ہے۔ روس کی تیل پیدا کرنے والی کمپنی رازنیٹ اور ڈینش شپنگ کمپنی ميرسک نے بھی تکنیکی خرابی

کی شکایت کی ہے۔اس کے علاوہ کوپن ہیگن سے چلائی جانے والی کمپنی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا: ’ہم اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ بہت سے کاروباری یونٹس پر ميرسک کا آئی ٹی نظام ایک سائبر حملے کی وجہ سے کام نہیں کر رہا ہے۔ ہم حالات کا اندازہ لگا رہے ہیں اور ہمارے ملازم، آپریشنز اور صارفین کے کاروبار کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔’سپین کے میڈیا نے خبر دی ہے کہ بہت سی ملٹی نیشنل کمپنیوں جیسے مانڈیلیز اور قانونی کمپنی ای ایل اے پائپر بھی اس سائبر حملے کی زد میں ہیں۔ تعمیراتی سامان بنانے والی فرانسیسی کمپنی سینٹ گوبین نے بھی کہا ہے کہ وہ سائبر حملے سے متاثر ہوئی ہے۔ یوکرین کے نائب وزیر اعظم نے ایک تصویر ٹوئٹر پر شیئر کی ہے جس میں سسٹم کی خرابی کی اطلاع نظر آرہی ہے۔ خیال رہے کہ اس سے قبل بھی گذشتہ ماہ دنیا بھر کی کمپنیاں ایسے ہی ایک سائبر حملے کا نشانہ بنی تھیں۔ اس وقت امریکہ، برطانیہ، چین، روس، سپین، اٹلی اور تائیوان سمیت 99 ملکوں میں رینسم ویئر کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔رینسم ویئر وہ کمپیوٹر وائرس ہوتا ہے جس کی مدد سے وائرس کمپیوٹر یا فائلیں لاک کر دیتا ہے اور اسے کھولنے کا معاوضہ مانگا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)


جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…