بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

مراکش نے مٹی کی اینٹوں سے پانی کا کم خرچ فلٹر تیار کرلیا

datetime 11  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(ویب ڈیسک) مراکش کے ماہرین نے پتھروں اور مٹی کی تہوں پر مشتمل ایک سادہ اور کم خرچ واٹر فلٹر تیار کیا ہے جو گھروں سے خارج ہونے والے گندے پانی کو صاف کرکے کم ازکم اسے زراعت کے قابل بناسکتا ہے۔ سائنسدانوں کی ٹیم نے اس کا پہلا نمونہ الہوز نامی ایک گاؤں میں آزمایا تو اس نے ایک مؤثر چھلنی کا کام

کرتے ہوئے آلودگی کے ٹھوس ذرات، نامیاتی گند، نائٹروجن اور فرٹیلائزر کے ذرات بھی روک لیے۔ سب سے اچھی بات یہ کہ فلٹر کولیفورم بیکٹیریا اور دیگر جراثیم ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ انسانی فضلے کے ذرات اور ایک اسٹریپٹوکوکائی بیکٹیریا اور ای کولائی بیکٹیریا بھی اس سے ختم ہوجاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس پر لاگت دیگر نظاموں سے بھی کم ہے۔ یہ فلٹر دو مرحلوں میں پانی صاف کرتا ہے۔ پہلے سائنسدانوں نے ریت، چارکول، لکڑی کے برادے اور لوہے کا چورا ملاکر اس کی اینٹیں بنائیں۔ اگلے مرحلے میں ایک برتن میں چھوٹے کنکر رکھے گئے اور انہیں تہہ در تہہ رکھا گیا یعنی اینٹ پھر کنکر ، پھر اینٹ اور پھر کنکر اور یوں کئی سطحوں سے پانی کو گزرنا پڑا۔ اس کی تحقیقات 13 اکتوبر کو انٹرنیشنل جرنل آف ہائیجن اینڈ اینوائرنمینٹل ہیلتھ میں شائع ہوئی ہیں۔ اس فلٹر کو مراکش کی سعدی ایاد یونیورسٹی کے ماہرین نے تیار کیا ہے جن کی سربراہ لیلیٰ مندی ہیں۔ لیلیٰ نے کہا کہ اگرچہ اینٹیں ازخود پانی صاف کرنے کی زبردست صلاحیت رکھتی ہیں لیکن پتھروں کی مدد سے یہ فلٹر مزید مؤثر ہوجاتا ہے اور جراثیم اور گندگی اچھی طرح صاف ہوجاتی ہے۔ اس فلٹر کو صاف کرنا بہت آسان ہے جسے چلانے کے لیے کسی قسم کی بجلی درکار نہیں ہوتی۔ ایک فلٹر 20 سال تک کے لیے کارآمد رہتا ہے۔ یہ نظام شمالی افریقہ اور ایشیائی خشک علاقوں کے لیے مؤثر ثابت ہوسکتا ہے جہاں پانی ناپید ہے اور

آلودہ پانی سے ہی فصلیں سیراب کی جاتی ہیں۔ تجرباتی طور پر ماہرین نے 8 گھروں کے 72 افراد سے آلودہ پانی لیا اور اسے پانی کی ٹنکی میں رکھا اور کچھ دیر بعد اسے فلٹر سے گزارا۔ فلٹرسے گزرنے کے بعد پانی سے 90 فیصد آلودگیاں ختم ہوگئیں جبکہ نائٹروجن اور مصنوعی کھاد وغیرہ کی مقدار 95 فیصد تک کم ہوگئی ۔ اب یہ پانی قابلِ نوش نہیں لیکن اسے زراعت کے لیے

ضرور استعمال کیا جاسکتا ہے۔ تاہم لیلیٰ کہتی ہیں کہ اگر اسے کلورین کے عمل اور الٹراوائلٹ روشنیوں سے گزارا جائے تو شاید یہ پانی قابلِ نوش بھی ہوسکتا ہے۔ دیگر ماہرین نے کہا ہے کہ یہ فلٹر پانی میں موجود بھاری دھاتوں کو صاف کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور اسی بنا پر اس کا پانی پینے کے قابل نہیں جبکہ الجی کی وجہ سے فلٹر کو بار بار صاف کیا جانا بھی ضروری ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…