بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

خلائی جنگ کے لیے موت کا ستارہ بنانے کا مشن تیارکرلیا

datetime 13  دسمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی سے ملکوں کے درمیان جنگ زمین سے نکل کر اب خلاو¿ں تک جا پہنچی ہے اور دنیا کی سپر پاورز ریاستیں خلاوو¿ں میں اپنا تسلط جمانے کی تیاریوں میں مصروف ہیں ایک طرف تو یورپی اور روسی خلائی ایجنسیاں چاند کا مستقل مسکن بنانے کی تیاریوں میں مصروف ہیں تو دوسری جانب امریکا نے ایک ایسے ستارہ کو بنانے پر کام شروع کردیا ہے جو کسی بھی سیارے کو تباہ کرسکے گا اس لیے اسے موت کا ستارہ یا ڈیتھ اسٹار کا نام دیا گیا ہے۔اب ملکوں کو تباہ کن ہتھیار تیار کرنے اور اس پر رقم خرچ کرنے کی ضروت نہیں رہے گی بلکہ خلا سے ایک ستارہ فائر کیا جائے گا اور وہ ایک سیارے کی تباہی کے لیے کافی ہوگا جب کہ اس ستارے میں کسی بھی جگہ کو تباہ کرنے والے عناصر پہلے سے موجود ہوتے ہیں اسے صرف ترتیب دینا ہوتا ہے۔ اس نظریئے کے خالق اور ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری کے چیف انجینئر کا کہنا ہے کہ کسی ڈیتھ اسٹار کو بنانے کے لیے کسی بڑے اسٹاف کو خلا میں بھیجنے کی ضرورت نہیں بلکہ اس ستارے پر موجود میٹریل کو استعمال کر کے اسے ا?سانی سے ڈیتھ اسٹارمیں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔چیف انجینئر کے مطابق ایک شہاب ثاقب یا ستارے میں میٹلز، نامیاتی عناصر، پانی اور تمام اجزا موجود ہوتے ہیں جو ایک ڈیتھ اسٹار کی تیاری کے لیے درکا ہیں۔ ناسا اس طرح کے ڈیتھ اسٹار کی تیاری میں مصروف ہے اور اس کے لیے اسٹرائڈ ری ڈائریکٹ مشن ترتیب دے دیا ہے جو تیزی سے اس پر کام کر رہا ہے۔ یہ مشن ایک روبوٹ کو کسی بھی شہاب ثاقب پر اتارے گا اور وہاں سے مٹی کے نمونے حاصل کرے گا جسے چاند کے مدار کے گرد رکھ کر اسے دوبارہ حاصل کیا جائے گا جس سے 2023 تک ڈیتھ اسٹار کی تیاری ممکن ہوگی۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ فلم اسٹار وار میں لڑنے والی وار شپ اپنے ا?گے حرکت کرنے والی اشیا کو فوری محسوس کرکے فوری طور پر ردعمل دکھاتی ہیں اوراپنے طاقتور آئن تھرسٹرز کا استعمال کر کےخطرے سے دور نکل جاتی تھیں جب کہ ناسا بھی ری ڈائریکٹ مشن میں ایسے چار ا?ئن انجن بنا رہا ہے جن کی مدد سے وار شپ جو ستاروں پر بغیر خطرے کے گھوم سکیں گی۔دوسری جانب یورپین خلائی ایجنسی روس کے ساتھ مل کر چاند کے شمالی سطح پر مستقل انسانی مسکن بنانے کی تیاریوں میں مصروف ہے اور ان کا مشن ہے کہ وہ چاند کو ڈیتھ اسٹار میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ یورپی خلائی ایجنسی کے اہم سائنس دان کا کہنا ہے کہ ایجنسی ڈیتھ اسٹار بنانے کی جانب پہلا قدم بڑھا رہی ہے اور چاند پر انسانی بیس بنانے کی تیاری شروع کردی ہے تاکہ چاند کو ایک مکمل ڈیتھ اسٹار میں بدلا جا سکے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…