بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

سانتا کلاز کی موجودگی کو آج کل کے بچے تسلیم کرنے کو تیار نہیں

datetime 9  دسمبر‬‮  2015 |
D554T9 Boy in Santa hat using tablet computer

واشنگٹن(نیوز ڈیسک ) کرسمس کے بانی سانتا کلاز کی موجودگی کو آج کل کے بچے تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔ ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق والدین کا کہنا ہے کہ ان کے بچے سانتا کلاز کی موجودگی اور کرسمس کی رات ان کی آمد پر سوالات پوچھتے ہیں۔ والدین کے مطابق بچوں کے ایسے سوالات کی وجہ انٹرنیٹ ہے جہاں سانتا کلاز کی موجودگی کو محض ایک میتھ بتایا گیا ہے۔ امریکی والدین کا کہنا ہے کہ وہ 8 سال کی عمر میں اپنے والدین سے سانتا کلازکے بارے میں سوال کرتے تھے مگر ان کے بچے 7 سال کی عمر میں ہے سانتاکلاز کو نہیں مانتے۔ امریکہ میں 44 فیصد والدین گوگل کو کرسمس کی کہانی ان کے بچوں کو بتانے کا ذمہ دار سمجھتے ہیں کیونکہ گوگل میں سانتاکلاز کے ویکی پیڈیا میں لکھا ہے کہ سانتا ایسے حقیقت ہے جیسے ایک آرٹیفیشل کرسمس ٹری۔ ایک اندازے کے مطابق 34 فیصد بچے اپنے والدین کی طرف سے خریدے گئے تحائف بذریعہ آن لائن شاپنگ ویب سائٹ کو دیکھ کر نارتھ پول میں رہنے والے سانتا کے بارے میں پوچھتے ہیں جبکہ ہر تیسرے میں سے ایک بچے میں کرسمس منانے کا جوش فیس بک یا ٹویٹرپر ”سانتا حقیقی نہیں ہے“پڑھ کر ختم ہو جاتا ہے۔ میڈیا کی رپورٹ کے مطابق 10 میں سے ایک بچہ ایک چھوٹا سائبر جاسوس بن کر والدین کی استعمال کی گئی ویب سائٹ سے خریدے گئے تحائف اور سانتاکے بارے میںانٹرنیٹ پر سرچ کرتا ہے۔ کرسمس کے بانی کو زندہ رکھنے کے لیے امریکیوں نے ایک ویب سائیٹ ’سانتا پر یقین رکھو‘ کے نام سے شروع کی ہے جو والدین کو تحائف کی خرید اور بچوں کو سانتا پر یقین رکھنے میں مدد کرے گی۔ اس ویب سائٹ کے ذریعے والدین کو ایسے سافٹ ویئر مہیا کیئے جائیں گے جس سے نارتھ پول میں رہنے والے سانتا کلاز کو حقیقت بنایا جائے گا اور ایسی تصاویر کو چھپایا جائے گا جن سے ثابت ہو کہ سانتا کا وجود موجود نہیں ہے۔ اس ویب سائیٹ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ ویب سائٹ والدین کو کرسمس کا جادو برقرار رکھنے اور سانتا کا راز بچوں سے محفوظ رکھنے میں اہم ثابت ہو گی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…