بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

224جی بی فی سیکنڈ کی رفتار پر چلنے والا انٹرنیٹ

datetime 26  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ایک نئی ٹیکنالوجی لائی فائی ایک دن انٹرنیٹ کی رفتار کو موجود عہد کے وائی فائی کے مقابلے میں سو گنا تیز کردے گی۔ جی ہاں سائنسدانوں نے ایک لیبارٹری میں انٹرنیٹ کو 224 جی بی فی سیکنڈ کی رفتار پر چلانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔ اس رفتار کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کی مدد سے آپ پلک جھپکنے کے اندر 18 فلمیں ڈاﺅن لوڈ کرسکتے ہیں۔ لائی فائی یا لائٹ فیڈیلٹی اب حقیقی دنیا میں آزمائش کے مراحل سے گزر رہی ہے اور اسے ایک دفتر میں ایک جی بی فی سیکنڈ کی رفتار سے چلایا جارہا ہے جو روایتی وائی فائی کے مقابلے میں سو گنا زیادہ ہے۔ جن لوگوں کو 56کے، موڈیم یاد ہے انہیں وائی فائی بہت تیز اور انٹرنیٹ تک رسائی کے لیے بہترین محسوس ہوا تھا اور اس کی مدد سے ڈیٹا کو ٹرانسمٹ کیا جاتا ہے مگر متعدد چیلنجز کا بھی سامنا ہوتا ہے۔ وائی فائی ریڈیو لہروں کے ذریعے ڈیٹا ٹرانسفر کرتا ہے مگر اس سے ایک وقت میں بہت زیادہ ڈیٹا منتقل نہیں کیا جاسکتا۔ گنجائش اس مسئلے کا ایک حصہ ہے، وائی فائی کے بیس اسٹیشنز جو ریڈیو لہروں کو ٹرانسمیٹ کرنے کے ذمہ دار ہیں، کی فعالیت 5 فیصد تک ہی موثر ہے اور اس کی زیادہ توانائی اسٹیشنز کو ٹھنڈا کرنے پر صرف ہوتی ہے۔ اسی طرح سیکیورٹی بھی ایک مسئلہ ہے۔ ریڈیو لہروں کے مقابلے میں نمایاں روشنی بھی برقی مقناطیسی اسپیکٹرم کا حصہ ہے، فرق یہ ہے کہ ریڈیو لہروں کے مقابلے میں روشنی دس ہزار گنا بڑی ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لائی فائی میں لامحدود گنجائش کے امکانات موجود ہیں اور یہ بیک وقت ہزاروں ڈیٹا اسٹریمز کو اطلاعات کی ترسیل کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔ لائی فائی فلیشنگ ایل ای ڈی پر کام کرتا ہے اور وہ بھی انتہائی تیز رفتار پر اور اس کے لیے مورس کوڈ کو تشکیل دینے کی ضرورت پڑتی ہے۔ لائی فائی کے فلیشز اتنے تیز ہیں کہ انہیں برہنہ آنکھ سے دیکھنا ممکن نہیں۔ لائی فائی سے ممکنہ طور پر وائی فائی کا خاتمہ تو ممکن نہیں کم از کم مستقبل قریب میں تو نہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…