ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

سائنسدانوں نے انسانی دماغ کے ٹچ پروگرام کو وصول کرنے والی ڈیجیٹل جلد تیار کرلی

datetime 17  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) انسانی جسم میں موجود حواس خمسہ میں سے اگر کوئی بھی حس اپنا کام چھوڑ دے تو زندگی پھیکی اوربدمزہ لگنے لگتی ہے لیکن پریشان نہ ہوں میڈیکل سائنس اس کا حل نکال رہی ہے اور اگر آپ کی جلد چھونے کی حس مردہ ہوگئی ہے تو اس کے لیے سائنس دانوں نے ڈیجیٹل جلد تیار کر لی ہے جسے چھوتے ہی دماغ سرگرم ہوکر اپنا کام شروع کردیتا ہے۔
کیلیفورنیا کی باو¿ اسٹین فورڈ یونیورسٹی میں کی جانے والی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ انجینئرز نے ایسے لچک دار سینسر تیار کر لیے ہیں جو جلد کی طرح کام کریں گے اور اس کو چھونے سے الیکٹریکل پلسز کی رفتار بڑھ جاتی ہے جو دماغ کے خلیون کو ایکٹو کردیتا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ سسٹم قابل بھروسہ ہے جب کہ اس سے قبل تیار کردہ مصنوعی جلد اتنی کامیابی اور تیزی سے ردعمل نہیں دیتی تھیں۔ تحقیق کے بانی زینن باو¿ کا کہنا ہے کہ اس پلاسٹک سے تیار کردہ سینسر کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ براہ راست نبض کا پیٹرن پیدا کرتا ہے جو کہ ہمارے نروس سسٹم کو ایکٹو کردیتا ہے۔
زینن باو¿ کا کہنا تھا کہ اس سے قبل سائنس دان پلاسٹک سے تیار کردہ میٹریل کی مدد سے انتہائی حساس سینسرز بنا رہے تھے لیکن ان سے الیکٹریکل سگنلز کا درست فارمیٹ میں نہیں بنتا تھا جس کی وجہ سے دماغ ان کی ہدایت وصول نہیں کرپاتا تھا اور اس کا مطلب یہ ہے کہ ان ڈیزائن کردہ سینسر کے ذریعے انتہائی کامیاب نتائج کے لیے کمپیوٹر پروسیسر کا ہونا لازمی تا ہے تاکہ ٹچ کے عمل کو ٹرانسلیٹ کیا جا سکے لیکن اس نئے سینسر میں نہ صرف پرنٹڈ فٹ ہے بلکہ الیٹرانک سرکٹ بھی لگا ہوا ہے جو سینسرز کوالیکٹریکل نبض پیدا کرنے میں مدد دیتا ہے جو آسانی دماغ سے منسلک ہو کر رابطہ قائم کرلیتا ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ جلد کے لیے استعمال ہونے والے پلاسٹک میٹریلز کے ذریعے مصنوعی اعضا بنانا آسان ہوجائے گا۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ سینسر پتلے اور لچک دار ہوتے ہیں جسے جلد پر چڑھا کر دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر تک کو معلوم کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سینسر ربری پولیمر اور کاربن نینو ٹیوب سے بنا ہوتا ہے جن کی شکل چھوٹے پیرامائڈز کی طرح ہوتے ہیں جب یہ سینسر سکڑتے ہیں تو سیمی کنڈیکٹو لیئر سے دباو¿ کو پیدا ہوتا ہے اور جب دباو¿ اس پر بڑھایا جائے تو یہ پیرا مائڈ پھربننا شروع ہوجاتے ہیں جب کہ اس لیئر کے نیچے ان کے جیٹ پرنٹڈ سرکٹ لگے ہوتے ہیں جو ویری ایبل کرنٹ کو نبض میں تبدیل کردیتے ہیں لیکن جتنا دباو¿ بڑھایا جائے گا اتنی ہی کرنٹ بڑھے گا اور نبضوں کی رفتار بھی بڑھ جائے گی۔ ان سینسرز کو سرجنز یاداشت کو واپس لانے اور بڑھانے جیسے تجربات میں استعمال کر سکیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…