اسلام آباد (نیوز ڈیسک)ایک نئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو خواتین روزانہ ایک گھنٹہ ویڈیو گیم کھیلتی ہیں وہ موٹاپے کا شکار ہوجاتی ہیں۔آج کی دنیا ٹیکنالوجی کی دنیا ہے جس میں آئے روز نت نئی ایجادات سامنے آتی رہتی ہیں، ویڈیو گیم بھی اس ٹیکنالوجی کی دنیا کی انوکھی ایجاد ہے جس نے اپنے سحر میں بچوں سے لےکر بڑوں تک کو جکڑا ہوا ہے اور ویڈیو گیم کھیلنا کس کو پسند نہیں ہے، چاہے بچے ہوں یابوڑھے، نوجوان لڑکے ہوں یا لڑکیاں سب ہی ویڈیو گیم کھیلنا پسند کرتے ہیں لیکن ایسی خواتین جو ویڈیو گیم کھیلتی ہیں ہوجائیں ہوشیار کیونکہ ویڈیو گیم کھیلنے کی وجہ سے وہ موٹی ہوسکتی ہیں۔لندن میں ایک نئی تحقیق سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا ہے جو لڑکیاں روزانہ ایک گھنٹہ ویڈیو گیم کھلیتی ہیں ان میں موٹاپے کے امکانات زیادہ بڑھ جاتے ہیں جب کہ جو خواتین روزانہ دن میں 2 گھنٹے ویڈیو گیم کھیلنے کو ترجیح دیتی ہیں ایسی خواتین مزید موٹاپے کا شکار ہوجاتی ہیں۔ محققین نے اس تحقیق کے لیے 2500 سے زائد 20 سال کی عمر کے ایسے افراد کا انتخاب کیا جو روزانہ ویڈیو گیم کھیلتے تھے تاہم کچھ عرصے بعد خواتین کے وزن میں اضافہ دیکھنے میں آیا جب کہ مردوں پر اس کا کوئی اثر رونما نہیں ہوا۔
ویڈیو گیم کھیلنے والی خواتین ہو جائیں ہوشیار
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)
-
دکانوں اور مارکیٹس کے نئے اوقات کار جاری، اب کتنے بجے بند ہوں گی؟
-
190 ملین پاؤنڈ کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی سزا معطلی درخواست پر فیصلہ سنادیا
-
بہت جلد پٹرول قیمتوں میں کمی کا عندیہ
-
سرکاری ملازمین کو ایڈوانس تنخواہیں دینے کا نوٹیفکیشن جاری
-
وزیراعظم اپنا گھر پروگرام : قرض حاصل کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے اہم خبر
-
اطالوی وزیراعظم کا اپنی نازیبا تصویر پر ردعمل
-
راولپنڈی،ہوٹل میں متعدد بار زیادتی کے بعد خاتون حاملہ، پیدا ہونے والی بچی بھی چھین لی گئی
-
اپریل میں بارشیں معمول سے زیادہ ریکارڈ، آئندہ 3ماہ کا موسمی آئوٹ لک بھی جاری
-
بجلی کے بھاری بلوں میں ریلیف! بجلی صارفین کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
معروف اداکار کی سیاسی جماعت بازی لے گئی
-
ٹرمپ نے اپنی اور کابینہ ممبرز کی نیم برہنہ تصویر پوسٹ کردی
-
سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز بھی کمی
-
زلزلے کے جھٹکے ، لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے



















































