ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

کیا سیل فون ٹاورز تابکاری شعاعیں خارج کرتے ہیں؟ چونکا دینے والا انکشاف

datetime 17  ستمبر‬‮  2015 |

کراچی (نیوز ڈیسک)ٹیلی کام کے شعبے میں بے پناہ ترقی کے بعد ہر شخص کے پاس موبائل فون آچکا ہے اور اب ہمیں جگہ جگہ موبائل فون ٹاور بھی نظر آتے ہیں جو ہمارے موبائل فونز تک سگنل پہنچاتے ہیں۔ یہ ٹاورز رہائشی علاقوں میں بھی قائم ہیں اور ان سے نکلنے والی شعاﺅں کے بارے میں طرح طرح کے تفکرات پائے جاتے ہیں۔ اکثر یہ رائے سامنے آتی رہی ہے کہ یہ شعاعیں صحت کے مسائل اور حتیٰ کہ کینسر جیسے امراض کا سبب بن سکتی ہیں۔اس سلسلے میں دنیا بھر میں متعدد تحقیقات کی جارہی ہیں اور ایک ایسی ہی تحقیق ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی آف انڈیا (TRAI)کی طرف سے بھی کی گئی ہے جس میں معلوم ہوا ہے کہ موبائل ٹاورز سے خطرناک شعاعیں نکلنے کا نظریہ بے بنیاد ہے اور ان ٹاورز کی ہمارے ارد گرد موجودگی صحت کیلئے کسی مسئلے کا سبب نہیں ہے۔بھارت میں مختلف علاقوں میں انہیں خدشات کے باعث متعدد موبائل فون ٹاور ہٹادیئے گئے تھے، جن کی وجہ سے کال ڈراپ کا شدید مسئلہ پیدا ہوگیا تھا۔ اس تحقیق کے سامنے آنے کے بعد حکومت نے موبائل فون کمپنیوں کو جلد از جلد ٹاورز کی تعداد بڑھا کر کال ڈراپ کا مسئلہ حل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ اس تحقیق کے دوران ریاست ہماچل پردیش میں 300موبائل ٹاورز سے معلومات اکٹھی کی گئیں تھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…