ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

وہ خطرناک وائرس جو صرف آواز کے ذریعے کمپیوٹر میں داخل ہو سکتاہے

datetime 3  ستمبر‬‮  2015 |

سان فرانسسکو(نیوز ڈیسک)آپ نے اکثر سن رکھا ہوگاکہ کمپیوٹر کے وائرس کوئی پروگرام انسٹال کرنے یا کاپی کرنے پر پھیلتے ہیں لیکن اب ماہرین نے ایک حیران کرنے والا دعویٰ کردیا ہے جس میں انہوں نے ثابت کرکے بتایا ہے کہ کمپیوٹر وائرس مائیکروفون کے ذریعے پھیل سکتا ہے۔ ایک کمپیوٹر ماہر ڈراگوس ریﺅ کا کہنا ہے کہ تین سال قبل اس نے یہ چیز دیکھی کہ اس کے کمپیوٹر کسی وائرس کی زد میں ہیں اور وہ وائی فائی اور بلیوٹوتھ کے آن ہونے پر آپس میں بات چیت کررہے تھے۔
اس کا کہنا ہے کہ نیٹ ورک کی کیبل نکالنے پر بھی کوئی اثر نہیں ہوا اور وہ آپس میں بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں۔تحقیق میں اس نے دیکھا کہ وائرس USBکے ذریعے کمپیوٹر کی BIOSمیں چلا جاتا ہے۔جس کے بعد وائرس کمپیوٹر کے سپیکروں اور مائیکروفونز کے ذریعے دیگر کمپیوٹروں کے ساتھ بات چیت کرتے ہیں جسے انسان نہیں سن سکتے۔اس وائرس کو badBIOSکا نام دیا گیاہے۔ ریﺅ کے اس دعویٰ نے دنیا بھر کو حیران کردیا تھا لیکن اب جرمنی کے Fraunhoferانسٹی ٹیوٹ آف کمیونیکیشن نے چند ثبوتوں کے ذریعے اس بات کی تصدیق کی ہے۔Journal of Communicationsمیں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح زیر سمندر دو کمپیوٹروں نے آواز کے ذریعے آپس میں بات چیت کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…