جمعہ‬‮ ، 26 جون‬‮ 2026 

جیٹ سٹریمز فضائی سفر کو کیسے متاثر کرسکتی ہیں؟

datetime 19  مئی‬‮  2015 |

اسلام آبا(نیوز ڈیسک ) گزشتہ دنوں برطانیہ کے ایک طیارے نے اپنا فضائی سفر ایک گھنٹہ قبل ہی مکمل کرلیا۔ طیارے نے یہ سفر745میل فی گھنٹہ یا پھر 1200کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے طے کیا جو کہ فضائی تاریخ کا ایک منفرد ریکارڈ ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ طیارے کی یہ رفتار آواز کی رفتار سے بھی کہیں زیادہ تھی عام طور پر آواز کی رفتار11کلومیٹر فی گھنٹہ ہوتی ہے۔ اس قدر تیز رفتار کے باوجود بھی طیارے نے ساو¿نڈ بیریئر نہیں توڑا جو کہ حیران کن امر تھا۔ اسی وجہ سے اس حقیقت کو کچھ افراد نے تسلیم کرنے سے بھی انکار کیا تاہم ماہرین نے اس کی وجہ جیٹ سٹریمز کو قرار دیا ہے۔ اس وقت فضا میں تقریباً ساڑھے تین سو کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے حرکت کرتی ایک جیٹ سٹریم موجود تھی جس کی وجہ سے طیارے کو آگے بڑھنے کیلئے ایک قدرتی دھکا سا ملا اور یوں طیارہ اس قدر تیزی سے فاصلہ طے کرنے میں کامیاب ہوا۔
عام افراد کیلئے جیٹ سٹریم کا لفظ غیر مانوس سا ہے کیونکہ یہ فضا میں موجود ہوا کے انتہائی تیز جھکڑ کو کہتے ہیں جو کہ انتہائی بلندی پر موجود ہوتا ہے۔ کائنات میں اس قسم کے جھکڑ صرف زمین ہی نہیں بلکہ کچھ دیگر سیاروں پر بھی شناخت کئے گئے ہیں جن میں جیوپیٹر اور سیٹرن شامل ہیں۔ ان جیٹ سٹریمز کی زمینی موسم کیلئے بے حد اہمیت ہے کیونکہ یہ فضا میں موجود ہوا پر تیز دباو¿ ڈالتے ہیں جس کی وجہ سے یہ موسمی تبدیلیوں کا باعث بھی ہوتے ہیں۔ عام طور پر یہ جیٹ سٹریمز سطح زمین سے سات میل کی بلندی پر موجود ہوتے ہیں اور زمینی ماحول کی مختلف پرتوں میں سے ایک ٹروپوسفیئر میں سفر کرناپسند کرتے ہیں۔ یہ جیٹ سٹریمز انتہائی طویل ہوتے ہیں جو مغرب سے مشرق کی جانب سفر کرتے ہیں تاہم ان کی چوڑائی ان کی لمبائی کے مقابلے میں بہت کم ہوتی ہے۔ یہ اپنے سفر کے دوران بعض اوقات دریا سے پھوٹی چھوٹی نہروں کی طرح چھوٹی چھوٹی جیٹ سٹریمز میں بھی تبدیل ہوتے ہیں اور پھر آگے جاکے ایک بار پھر بڑی جیٹ سٹریم کا روپ دھار لیتے ہیں۔ جیٹ سٹریم کے عمومی طریقے کار کے علاوہ موسم، تیز اور کم دباو¿ کا نظام اور ہوا کا درجہ حرارت بھی جیٹ سٹریم کے راستوں کا تعین کرتی ہیں۔جیٹ سٹریمز کے نام سے دنیا دوسری جنگ عظیم میں پہلی بار واقف ہوئی تھی جب بمبار طیاروں نے میڈیٹیرینیئن سی کے اوپر جیٹ سٹریمز کی مدد سے اپنے طیاروں کی رفتار کو بارہا انتہائی تیز کیا۔ گزشتہ کئی برس کے دوران دنیا کے متعدد طیارے اسی جیٹ سٹریم کی وجہ سے گراو¿نڈ کرنا پڑے کیونکہ معلوم ہوا ہے کہ اگر طیارے جیٹ سٹریم کے اندر سفر کریں اور یہ جیٹ سٹریم آتش فشاں پہاڑوں کے علاقے میں ہو تو ایسے میں زمین کے اندر پیدا ہونے والا دباو¿ لاوے کی راکھ کو جیٹ سٹریم میں پہنچا دیتا ہے جس سے طیاروں کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اواتار مائونٹین


اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…