منگل‬‮ ، 18 اگست‬‮ 2026 

ایک بٹن دبانے پر اپنی ضرورت کی اشیاءپاس پائیں

datetime 4  اپریل‬‮  2015 |

سان فرانسسکو(نیوزڈ یسک )اب آپ کے گھر میں کوئی اشیا ختم ہوجائے تو پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں کیونکہ اب آپ ایک بٹن دبا کر اپنی ضرروت کی اشیا گھر بیٹھے حاصل کرسکتے ہیں۔ایمیزون کی جانب سے ”ڈیش“ نامی ایسا سسٹم تیار کیا گیا ہے جو چھوٹے بٹن کی صورت میں ہے یہ بٹن بالکل کار لاک کرنے والے وائرلیس بٹن کی طرح کام کرتا ہے جو چابی کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ اس جدید سسٹم کی خاص بات یہ ہے کہ اسے کسی بھی سطح پر چپکایا جاسکتا ہے جیسے واشنگ پاو¿ڈر آرڈر کرنے والا بٹن واشنگ مشین پر چپکایا جاسکتا ہے یا پیزا آرڈر کرنے والا ڈیش بٹن کھانے کی میز پر چسپاں کیا جاسکتا ہے جب کہ بٹن دبانے پر وہ سفید ہوتا ہے اور پھر سبز جس کا مطلب ہے کہ ایمیزون تک آرڈر پہنچ گیا ہے تاہم اگر بٹن غلطی سے ایک سے زائد مرتبہ دب جائے تو ایمیزون آپ کے اسمارٹ فون پرآرڈر پورا نہ ہونے کی اطلاع فراہم کرے گا۔ایمیزون ڈیش سے باو¿نٹ، اولے، جیلٹ، ٹائیڈ، اسمارٹ واٹر، اِیزی جوس جیسے کئی برانڈز کا آرڈر دیا جاسکتا ہے، اس میں نصب بیٹری کئی سال تک چلتی ہے اور بیٹری ختم یا بٹن خراب ہونے پر نیا بٹن مل جاتا ہے، گھریلو وائی فائی سے جڑا یہ چھوٹا سا آلہ آپ کے موبائل پرایمیزون ایپس سے منسلک ہوتا ہے جس پر آرڈر کی کنفیگریشن پہلے سے ہی ہوتی ہے لیکن اس کی سیٹنگ کےبعد ضروری نہیں کہ فون کھلا رکھا جائے بلکہ وہ براہِ راست ایمیزون سے وابستہ ہوجاتا ہے۔یہ جدید بٹن ایمیزون کے پرائم ممبرز کو مفت میں دیا جائے گا جس کے ذریعے فی الحال وہ 17 برانڈزکی اشیا منگواسکتے ہیں اس طرح آپ مزید بٹن بھی حاصل کرسکتے ہیں جسے ماہرین ضروریات پوری کرنے والی چھڑی قرار دے رہے ہیں۔ آرڈر کےوقت کا انحصار ایمیزون اکاو¿نٹ پر آپ کی ہسٹری اور اس کی ضرورت پر ہوتا ہے۔اس سے قبل ایمیزون فریش نامی سہولیات بھی متعارف کرائی گئی ہیں جس کے ذریعے ایک بٹن دباتے ہی سبزیاں، پھل اور گھریلو سودا بھی منگوایا جاسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…