جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

لاہور میں ٹیوشن سنٹر کی چھت گر گئی، ملبے تلے دب کر14بچے جاں بحق

datetime 30  جون‬‮  2026 |

لاہور (این این آئی)صوبائی دارالحکومت کے علاقے کاہنہ میں ٹیوشن سنٹر کی چھت گرنے سے 14بچے جاں بحق ہوگئے

جبکہ متعدد زخمی ہوگئے ،پولیس نے ابتدائی قانونی کارروائی کے تحت مالک مکان سمیت دو افراد کو حراست میں لے لیا، واقعے کی اطلاع ملنے پر بچوں کے ورثاء جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور اپنے بچوں کی تلاش میں مصروف رہے جبکہ اس دوران رقت آمیز مناظر بھی دیکھنے میں آئے، ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے اعلیٰ افسران جائے وقوعہ پر پہنچے اور امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا ، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے افسوسناک واقعے پر فوری نوٹس لیتے ہوئے حکام سے رپورٹ طلب کر لی ۔ایدھی ترجمان کے مطابق کاہنہ کے علاقہ بستی عید گاہ کے قریب ٹیوشن سنٹر میں حادثے کے وقت بچے پڑھ رہے تھے کہ اچانک کمرے کی چھت منہدم ہوگئی، جس کے نتیجے میں متعدد بچے ملبے تلے دب گئے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس ،ریسکیو 1122 اور ایدھی سمیت دیگر امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں ۔پولیس، ریسکیو 1122اور ضلعی انتظامیہ نے فوری امدادی کارروائیاں شروع کر دیں،

پولیس جوان ریسکیو ٹیموں کے شانہ بشانہ ملبہ ہٹانے اور متاثرین کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے میں مصروف رہے۔ایدھی ترجمان کے مطابق حادثے میں 20سے زائد بچے اور ایک ٹیچر ملبے تلے دبے جن میں سے 14بچے جاں بحق ہوگئے جبکہ متعدد بچوں کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔ریسکیو حکام کے مطابق گرنے والی چھت ٹی آر گارڈر سے تعمیر کی گئی تھی ۔ اطلاع ملنے پر بچوں کے ورثاء جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور اپنے بچوں کی تلاش میں مصروف رہے جبکہ اس دوران رقت آمیز مناظر بھی دیکھنے میں آئے۔ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران فوری طور پر جائے وقوعہ پہنچ گئے، امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ڈی آئی جی آپریشنز نے ریسکیو آپریشن کی خود نگرانی کی اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت جاری کی۔زخمی بچوں کو فوری طور پر تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال کاہنہ منتقل کیا گیا، جہاں علاج معالجہ جاری ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال کاہنہ کا دورہ کیا اور زخمی بچوں کی عیادت کی۔ فیصل کامران نے متاثرہ بچوں کے اہلخانہ سے ملاقات کی، اظہارِ تعزیت کیا اور ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔انہوں نے کہا کہ افسوسناک واقعہ میں جاں بحق ہونے والے بچوں کے اہلخانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ پولیس نے ابتدائی قانونی کارروائی کے تحت مالک مکان سمیت دو افراد کو حراست میں لے لیا، واقعہ کی وجوہات اور ذمہ داران کے تعین کے لیے تمام شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔

ڈی آئی جی آپریشنز نے کہا کہ قانونی تقاضے مکمل کرتے ہوئے ذمہ دار افراد کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی، متعلقہ اداروں سے مسلسل رابطہ برقرار ہے، واقعہ کے ہر پہلو کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے ، لاہور پولیس متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن قانونی، انتظامی اور انسانی معاونت فراہم کر رہی ہے، ہنگامی صورتحال سے موثر انداز میں نمٹنے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے لاہور پولیس تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔دوسری جانب وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ٹیوشن سنٹر کی چھت گرنے کے افسوسناک واقعے پر فوری نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی ۔وزیر اعلی مریم نواز شریف نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے اور ریسکیو آپریشن تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے حادثے کے ذمہ داروں کے تعین کرنے کے احکامات بھی دیئے ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…