اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سندھ کے سینئر وزیر اور وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن ے واضح کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی پنک اسکوٹیز صرف خواتین کے استعمال کے لیے مخصوص ہوں گی، اور اگر کوئی مرد انہیں چلاتے ہوئے پایا گیا تو اسکوٹی ضبط کر لی جائے گی۔
حیدرآباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے خواتین کو ہدایت کی کہ وہ یہ اسکوٹیز اپنے شوہر، بھائی یا کسی بھی مرد رشتہ دار کو استعمال کے لیے نہ دیں، بصورت دیگر حکومت کارروائی کرے گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایک مرتبہ اسکوٹی سرکاری تحویل میں چلی گئی تو اسے واپس نہیں کیا جائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ خواتین ان پنک اسکوٹیز کو سات برس تک فروخت بھی نہیں کر سکیں گی۔
یاد رہے کہ سندھ حکومت نے 23 مئی کو حیدرآباد میں خواتین میں مفت پنک اسکوٹیز تقسیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس حوالے سے شرجیل میمن نے کہا تھا کہ حال ہی میں شاہراہِ بھٹو کو ٹریفک کے لیے کھولنے کی خوشخبری دی گئی تھی اور اب خواتین کو سفری سہولت فراہم کرنے کے لیے پنک اسکوٹی اسکیم کا دائرہ حیدرآباد تک بڑھایا جا رہا ہے۔
انہوں نے اس منصوبے کو خواتین کو بااختیار بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ پنک ای وی اسکوٹی اسکیم نے معاشرے میں مثبت تبدیلی پیدا کی ہے۔ ان کے مطابق ایک سال کے دوران ایک ہزار اسکوٹیز نے لوگوں کی سوچ بدلنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، اسی لیے اب مزید شہروں میں بھی یہ سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔



















































