اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

خواتین پنک اسکوٹی شوہر یا بھائی کو چلانے نہ دیں، حکومت نے خبردار کردیا

datetime 23  مئی‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سندھ کے سینئر وزیر اور وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن ے واضح کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی پنک اسکوٹیز صرف خواتین کے استعمال کے لیے مخصوص ہوں گی، اور اگر کوئی مرد انہیں چلاتے ہوئے پایا گیا تو اسکوٹی ضبط کر لی جائے گی۔

حیدرآباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے خواتین کو ہدایت کی کہ وہ یہ اسکوٹیز اپنے شوہر، بھائی یا کسی بھی مرد رشتہ دار کو استعمال کے لیے نہ دیں، بصورت دیگر حکومت کارروائی کرے گی۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ایک مرتبہ اسکوٹی سرکاری تحویل میں چلی گئی تو اسے واپس نہیں کیا جائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ خواتین ان پنک اسکوٹیز کو سات برس تک فروخت بھی نہیں کر سکیں گی۔

یاد رہے کہ سندھ حکومت نے 23 مئی کو حیدرآباد میں خواتین میں مفت پنک اسکوٹیز تقسیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس حوالے سے شرجیل میمن نے کہا تھا کہ حال ہی میں شاہراہِ بھٹو کو ٹریفک کے لیے کھولنے کی خوشخبری دی گئی تھی اور اب خواتین کو سفری سہولت فراہم کرنے کے لیے پنک اسکوٹی اسکیم کا دائرہ حیدرآباد تک بڑھایا جا رہا ہے۔

انہوں نے اس منصوبے کو خواتین کو بااختیار بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ پنک ای وی اسکوٹی اسکیم نے معاشرے میں مثبت تبدیلی پیدا کی ہے۔ ان کے مطابق ایک سال کے دوران ایک ہزار اسکوٹیز نے لوگوں کی سوچ بدلنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، اسی لیے اب مزید شہروں میں بھی یہ سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…