جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

عیدالاضحیٰ پر دفعہ 144 نافذ ہو گی

datetime 20  مئی‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی مؤخر کیے جانے کے معاملے پر

اسرائیلی صحافی نے اہم تفصیلات سامنے لاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ خلیجی ممالک نے امریکا کو جنگ سے باز رہنے کا مشورہ دیا تھا۔ اسرائیلی رپورٹر براک راویڈ نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات نے واشنگٹن کو واضح پیغام دیا کہ ایران پر حملے کی صورت میں اس کے منفی اثرات براہِ راست خلیجی خطے کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران صدر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اور متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید النہیان سے رابطے کیے۔ ان رہنماؤں نے امریکی صدر پر زور دیا کہ فوجی کارروائی کے بجائے سفارتی مذاکرات کو آگے بڑھایا جائے کیونکہ جنگ چھڑنے کی صورت میں خطے کی تیل اور توانائی تنصیبات شدید خطرات سے دوچار ہوسکتی ہیں۔

براک راویڈ کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے قریبی مشیروں اور ایران کے خلاف سخت مؤقف رکھنے والے ساتھیوں کو بھی خلیجی ممالک کے خدشات سے آگاہ کیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کے خلیجی اتحادی خطے میں مزید کشیدگی اور توانائی کے مراکز پر ممکنہ حملوں سے بچنا چاہتے ہیں۔

یاد رہے کہ پیر کی رات صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان جاری کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کی درخواست پر ایران پر مجوزہ فوجی حملہ فی الحال روک دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق خلیجی قیادت کا مؤقف تھا کہ اس وقت سنجیدہ سفارتی کوششیں جاری ہیں اور ایسا معاہدہ ممکن ہے جو امریکا، مشرق وسطیٰ اور عالمی برادری کے لیے قابل قبول ہو۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ممکنہ معاہدے کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرسکے۔ انہوں نے بتایا کہ سیکریٹری آف وار پیٹ ہیگستھ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ڈینیئل کین اور امریکی فوجی قیادت کو ہدایت جاری کردی گئی ہے کہ ایران پر طے شدہ حملے کو فی الحال مؤخر رکھا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…