اسلام آباد (نیوز ڈیسک)حکومتِ پنجاب نے علی مصطفیٰ ڈار کو وزیر اعلیٰ مریم نواز کا مشیر برائے مصنوعی ذہانت مقرر کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
اس تقرری کے ساتھ ہی صوبے میں ٹیکنالوجی اور اے آئی کے فروغ کے لیے ایک نیا محکمہ قائم کیا گیا ہے، جس کا مقصد جدید تحقیق، اختراعی منصوبوں اور ڈیجیٹل ترقی کو تیز کرنا ہے۔نئی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد علی مصطفیٰ ڈار کو صوبائی وزیر کے مساوی اختیارات حاصل ہوں گے اور وہ پنجاب اسمبلی کے اجلاسوں میں بھی شرکت کر سکیں گے۔تعلیمی اعتبار سے علی مصطفیٰ ڈار نے ابتدائی تعلیم ایچی سن کالج لاہور سے حاصل کی، بعد ازاں یونیورسٹی کالج لندن اور یونیورسٹی آف مانچسٹر انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے سافٹ ویئر انجینئرنگ میں اعلیٰ تعلیم مکمل کی۔ انہوں نے برطانیہ میں تقریباً بیس سال تک مختلف شعبوں میں پیشہ ورانہ خدمات انجام دیں اور بین الاقوامی سطح پر نمایاں کیریئر بنایا۔مسلم لیگ (ن) کی 2024 کے عام انتخابات میں کامیابی کے بعد انہوں نے بیرونِ ملک سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی ترغیب دینے میں اہم کردار ادا کیا، خصوصاً ٹیکنالوجی اور رئیل اسٹیٹ کے میدان میں۔
خاندانی پس منظر کے حوالے سے علی مصطفیٰ ڈار سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی اسما نواز کے شریکِ حیات اور سینئر سیاستدان اسحاق ڈار کے بڑے صاحبزادے ہیں، جبکہ شریف خاندان کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات بھی رہے ہیں۔



















































