بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

خواتین کو کام کی جگہ پر ہراساں کرنے کا کیس؛ لاہور ہائیکورٹ نے نیا قانونی نکتہ طے کر دیا

datetime 23  دسمبر‬‮  2025 |

لاہور(این این آئی)لاہور ہائیکورٹ نے خاتون ٹیچر کو ہراساں کرنے پر ڈائریکٹر مینجمنٹ ووکیشنل انسٹیٹیوٹ کو نوکری سے نکالنے کا محتسب پنجاب کا فیصلہ درست قرار دیدیا۔گزشتہ روز جسٹس راحیل کامران نے درخواست گزار کی نوکری پر بحال کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے 17 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا۔جسٹس راحیل کامران شیخ نے فیصلے میں کہا کہ خواتین کو کام کی جگہ ہراساں کرنے کی حدود صرف آفس بلڈنگ تک محدود نہیں، درخواست گزار کے مطابق شکایت کنندہ کے الزامات دفتر میں نہیں بلکہ گھر میں ہراساں کرنے کے ہیں۔وکیل درخواست گزار نے کہا کہ محتسب پنجاب ہراسمنٹ سے متعلق وہ کیس سن سکتا ہے جس میں خاتون کو کام کی جگہ پر ہراساں کیا گیا ہو۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ موجودہ کیس میں درخواست گزار نے شکایت کنندہ کو دھمکی دی کہ اگر تعلقات نہ بنائے تو نوکری جائے گی، یہ الزامات اختیارات کا غلط استعمال کرنے کے زمرے میں آتے ہیں، یہ حقیقت ہے کہ خواتین اکثر ہراسمنٹ کے واقعات کا فوری طور پر اظہار کرنے سے گریز کرتی ہیں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اس پر راضی ہیں۔

تفصیلی فیصلے کے مطابق درخواست گزار کے خلاف خاتون ٹیچر نے ہراساں کرنے کی درخواست دی، شکایت کنندہ کے مطابق درخواست گزار نے ناجائز تعلقات بنانے کے لیے مسیجز کیے، شکایت کنندہ کے مطابق ستمبر 2022 میں درخواست گزار اس کے گھر آیا اور زبردستی زیادتی کرنے کی کوشش کی، محتسب پنجاب نے شکایت کنندہ کی اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے درخواست گزار کو نوکری سے نکال دیا۔ کہا گیا کہ درخواست گزار نے محتسب پنجاب کے فیصلے کے خلاف گورنر کو اپیل کی، گورنر نے محتسب کا فیصلہ درست مانتے ہوئے اپیل رد کردی، درخواست گزار کے گورنر کے فیصلے کے خلاف ہائیکورٹ سے رجوع کیا، عدالتیں صرف ان معاملات میں مداخلت کرسکتی ہیں جہاں قانونی بے قاعدگی موجود ہو، درخواست گزار نے شکایت کنندہ کے الزامات سے انکار نہیں کیا، درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ شکایت کنندہ نے معاملے پر فوجداری کارروائی کی۔

فیصلے کے مطابق درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ اگر فوجداری کارروائی جاری ہو تو محتسب کارروائی نہیں کرسکتا، محتسب پنجاب نے صرف ڈسپلنری ایکشن لینا ہوتا ہے، محتسب پنجاب فوجداری کارروائی کی سزا نہیں دے سکتا، درخواست گزار کا یہ اعتراض مسترد کیا جاتا ہے، درخواست گزار نے شکایت کنندہ سے واٹس ایپ چیٹ سے انکار نہیں کیا، محتسب پنجاب اور گورنر کے فیصلوں میں کوئی لاقانونیت نہیں پائی گئی، عدالت درخواست گزار کی استدعا مسترد کرتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…