جمعرات‬‮ ، 22 جنوری‬‮ 2026 

خواتین کو کام کی جگہ پر ہراساں کرنے کا کیس؛ لاہور ہائیکورٹ نے نیا قانونی نکتہ طے کر دیا

datetime 23  دسمبر‬‮  2025 |

لاہور(این این آئی)لاہور ہائیکورٹ نے خاتون ٹیچر کو ہراساں کرنے پر ڈائریکٹر مینجمنٹ ووکیشنل انسٹیٹیوٹ کو نوکری سے نکالنے کا محتسب پنجاب کا فیصلہ درست قرار دیدیا۔گزشتہ روز جسٹس راحیل کامران نے درخواست گزار کی نوکری پر بحال کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے 17 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا۔جسٹس راحیل کامران شیخ نے فیصلے میں کہا کہ خواتین کو کام کی جگہ ہراساں کرنے کی حدود صرف آفس بلڈنگ تک محدود نہیں، درخواست گزار کے مطابق شکایت کنندہ کے الزامات دفتر میں نہیں بلکہ گھر میں ہراساں کرنے کے ہیں۔وکیل درخواست گزار نے کہا کہ محتسب پنجاب ہراسمنٹ سے متعلق وہ کیس سن سکتا ہے جس میں خاتون کو کام کی جگہ پر ہراساں کیا گیا ہو۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ موجودہ کیس میں درخواست گزار نے شکایت کنندہ کو دھمکی دی کہ اگر تعلقات نہ بنائے تو نوکری جائے گی، یہ الزامات اختیارات کا غلط استعمال کرنے کے زمرے میں آتے ہیں، یہ حقیقت ہے کہ خواتین اکثر ہراسمنٹ کے واقعات کا فوری طور پر اظہار کرنے سے گریز کرتی ہیں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اس پر راضی ہیں۔

تفصیلی فیصلے کے مطابق درخواست گزار کے خلاف خاتون ٹیچر نے ہراساں کرنے کی درخواست دی، شکایت کنندہ کے مطابق درخواست گزار نے ناجائز تعلقات بنانے کے لیے مسیجز کیے، شکایت کنندہ کے مطابق ستمبر 2022 میں درخواست گزار اس کے گھر آیا اور زبردستی زیادتی کرنے کی کوشش کی، محتسب پنجاب نے شکایت کنندہ کی اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے درخواست گزار کو نوکری سے نکال دیا۔ کہا گیا کہ درخواست گزار نے محتسب پنجاب کے فیصلے کے خلاف گورنر کو اپیل کی، گورنر نے محتسب کا فیصلہ درست مانتے ہوئے اپیل رد کردی، درخواست گزار کے گورنر کے فیصلے کے خلاف ہائیکورٹ سے رجوع کیا، عدالتیں صرف ان معاملات میں مداخلت کرسکتی ہیں جہاں قانونی بے قاعدگی موجود ہو، درخواست گزار نے شکایت کنندہ کے الزامات سے انکار نہیں کیا، درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ شکایت کنندہ نے معاملے پر فوجداری کارروائی کی۔

فیصلے کے مطابق درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ اگر فوجداری کارروائی جاری ہو تو محتسب کارروائی نہیں کرسکتا، محتسب پنجاب نے صرف ڈسپلنری ایکشن لینا ہوتا ہے، محتسب پنجاب فوجداری کارروائی کی سزا نہیں دے سکتا، درخواست گزار کا یہ اعتراض مسترد کیا جاتا ہے، درخواست گزار نے شکایت کنندہ سے واٹس ایپ چیٹ سے انکار نہیں کیا، محتسب پنجاب اور گورنر کے فیصلوں میں کوئی لاقانونیت نہیں پائی گئی، عدالت درخواست گزار کی استدعا مسترد کرتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا(دوم)


مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…