بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

سوشل میڈیا کمپنیز کے عدم تعاون پر حکومت پا کستان کا سخت کارروائی کا فیصلہ، سوشل میڈیا بند بھی ہو سکتا ہے

datetime 12  دسمبر‬‮  2025 |

اسلا م آباد(نیوز ڈ یسک )حکومتِ پاکستان نے ایک مرتبہ پھر سوشل میڈیا کمپنیوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ ملک کے قوانین کی سختی سے پاسداری کریں، بصورت دیگر حکومت قانونی کارروائی کرنے پر مجبور ہوگی۔اسلام آباد میں وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور وزیرِ مملکت برائے قانون بیرسٹر دانیال نے مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ بھارت اور افغانستان سے بیٹھ کر پاکستان مخالف اور دہشت گردی پر مبنی مواد سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت پہلے ہی ان پلیٹ فارمز کو پاکستانی قوانین پر عملدرآمد کی ہدایت کر چکی ہے۔طلال چوہدری نے کہا کہ اگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے مقامی قوانین کے مطابق اقدامات نہ کیے تو حکومت کارروائی سے گریز نہیں کرے گی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ افغانستان کے سرکاری اداروں کے سرکاری اکاؤنٹس سے بھی اشتعال انگیز مواد شیئر کیا جا رہا ہے۔وزیرِ مملکت کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا کمپنیوں کو پاکستان میں اپنے باضابطہ دفاتر قائم کرنا ہوں گے۔ ان کے مطابق اگر یہ شرط پوری نہ کی گئی تو حکومت سخت قدم اٹھانے پر مجبور ہو جائے گی۔طلال چوہدری نے مزید کہا کہ دہشت گردی سے متعلق اکاؤنٹس کے خلاف پاکستانی ادارے باقاعدگی سے سوشل میڈیا کمپنیوں سے رابطہ کرتے ہیں، لیکن اکثر پلیٹ فارمز کی جانب سے ردِعمل نہایت غیر تسلی بخش ہوتا ہے۔ بعض تو جواب دینے کی زحمت بھی نہیں کرتے۔انہوں نے یاد دلایا کہ 24 جولائی 2025 کو سوشل میڈیا ضابطہ کاری کے حوالے سے باضابطہ نوٹس جاری کیا گیا تھا، جس میں واضح کیا گیا کہ پاکستان میں کام جاری رکھنے کے لیے پلیٹ فارمز کو یہاں دفاتر کھولنے ہوں گے، اور دہشت گرد عناصر ان پلیٹ فارمز کا کھلے عام استعمال کر رہے ہیں۔طلال چوہدری نے بتایا کہ اے آئی اور جدید الگورتھمز کے ذریعے دہشت گردی کا مواد پھیلایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق دہشت گردی میں ملوث کم از کم 19 اکاؤنٹس بھارت سے اور 28 افغانستان سے آپریٹ کیے جا رہے تھے۔

حکومت کی شکایات کے باوجود ایکس اور فیس بُک نے انتہائی کمزور جواب دیا۔انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ جب سوشل میڈیا پلیٹ فارمز فلسطین یا بچوں سے متعلق ممنوعہ مواد فوراً ہٹا دیتے ہیں تو دہشت گردی پر مبنی مواد کیوں نہیں ہٹایا جاتا؟ حکومت کا مطالبہ ہے کہ اے آئی کی مدد سے ایسے تمام اکاؤنٹس اور مواد کو خودکار طریقے سے ڈیلیٹ کیا جائے۔بیرسٹر عقیل نے گفتگو میں کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پاکستان کے مقابلے میں دیگر ممالک کے لیے مختلف معیار اپناتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطین سے متعلق ویڈیوز 24 گھنٹوں میں ہٹا دی جاتی ہیں لیکن دہشت گردی پر مبنی مواد کے معاملے میں تعاون نہیں کیا جاتا، حتیٰ کہ ایکس دہشت گردی میں ملوث اکاؤنٹس کے آئی پی ایڈریس تک فراہم نہیں کرتا۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سوشل میڈیا کمپنیوں نے رویہ نہ بدلا تو پاکستان برازیل کے ماڈل پر بھی غور کر سکتا ہے، جہاں ایکس کو نہ صرف بند کیا گیا بلکہ بھاری جرمانہ بھی عائد کیا گیا تھا۔ بیرسٹر عقیل نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر عالمی عدالت سے بھی رجوع کیا جا سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…