جمعرات‬‮ ، 05 مارچ‬‮ 2026 

پاکستان میں ایک کروڑ 90 لاکھ سے زائد لڑکیوں کی کم عمری میں شادی کا انکشاف

datetime 21  ستمبر‬‮  2025 |

نیویارک (این این آئی)اقوام متحدہ کا عالمی فنڈ برائے اطفال (یونیسیف) نے کہا ہے کہ پاکستان میں ایک کروڑ 90 لاکھ سے زائد لڑکیوں کی کم عمری میں شادیاں ہوئی ہیں، جن میں سے تقریباً ہر 6 میں سے ایک لڑکی کی شادی 18 سال کی عمر سے پہلے کر دی جاتی ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق 48 لاکھ لڑکیوں کی شادیاں 15 سال کی عمر سے پہلے کر دی گئیں، جو اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ قومی سطح پر مربوط اقدامات کی فوری ضرورت ہے۔آئینی تحفظات کے باوجود شادی کی قانونی عمر کے حوالے سے صوبوں میں عدم توازن موجود ہے، صرف سندھ اور اسلام آباد میں لڑکیوں کی شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر ہے جب کہ باقی صوبوں میں اس خلا کی وجہ سے لاکھوں لڑکیاں کم عمری میں گھریلو تشدد اور تعلیم سمیت دیگر محرومیوں سے دوچار ہیں۔یہ انکشاف نیشنل سول سوسائٹی ڈائیلاگ اور ڈسیمنیشن ایونٹ کے دوران ہوا جو ‘چائلڈ ارلی اینڈ فورسڈ میرج (سی ای ایف ایم) پروجیکٹ’ کے تحت منعقد کیا گیا تھا۔

اس تقریب کا انعقاد اسٹرینتھنگ پارٹیسپیٹری آرگنائزیشن (ایس پی او) نے امریکی محکمہ خارجہ اور سیو دی چلڈرن کے تعاون سے کیا، جس میں سول سوسائٹی کے رہنماؤں، پارلیمنٹرینز، بچوں کے تحفظ کے ماہرین، نوجوانوں کے نمائندوں اور سرکاری عہدیداروں نے شرکت کی۔سیو دی چلڈرن کے کنٹری ڈائریکٹر خرم گوندل نے کہا کہ حقیقی تبدیلی صرف پالیسیوں سے نہیں آتی، بلکہ یہ مستقل مزاجی، عزم اور حکومت، سول سوسائٹی اور مقامی شراکت داروں کی اجتماعی کوششوں کا تقاضا کرتی ہے۔ایس پی او میں سی ای ایف ایم پروگرام کے منیجر جمیل اصغر بھٹی نے انکشاف کیا کہ سندھ اور بلوچستان میں کی گئی حالیہ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ تقریباً 60 فیصد شرکا کی شادیاں 18 سال کی عمر سے پہلے ہوئیں۔سینیٹر (ر) جاوید جبار نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ لڑکیوں کو بااختیار بنانے اور ان کے مستقبل کو محفوظ کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

انہوںنے کہاکہ کستان کی تاریخ میں فاطمہ جناح اور بے نظیر بھٹو جیسی خواتین رہنماؤں کی مثال دی کہ اگر ان کی کم عمری میں شادی کر دی جاتی تو وہ کبھی ایسے سنگ میل حاصل نہ کر پاتیں۔انہوں نے زور دیاکہ ہمیں غیر ملکی فنڈنگ کے انتظار میں نہیں بیٹھنا چاہیے، بچوں کا تحفظ ہماری اپنی ذمہ داری ہے۔ایس پی او کی چیف ایگزیکٹو محترمہ عارفہ مظہر نے زور دیا کہ اس مسئلے پر محض پروجیکٹ کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایک مستقل اور کمیونٹی پر مبنی تحریک کے طور پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک پروجیکٹ نہیں بلکہ ایک اجتماعی مشن ہے۔انہوں نے شراکت داروں، نوجوان رہنماؤں اور سیو دی چلڈرن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ اختتام نہیں بلکہ بچپن کی شادی کے خلاف جدوجہد کے ایک نئے باب کا آغاز ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



عربوں کا کیا قصورہے؟


ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…