جمعرات‬‮ ، 15 جنوری‬‮ 2026 

پولیس نے بہت مارا ،جواباً کہا مار دو، جنت میں ہی جاؤں گا: کامران قریشی

datetime 11  اپریل‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)ارمغان قریشی کے والد کا الزام: “پولیس نے تشدد کیا، میڈیا سے بات نہ کرنے کا کہا”کراچی کی سینٹرل جیل میں قائم جوڈیشل کمپلیکس میں غیر قانونی اسلحہ اور منشیات کے مقدمے کی سماعت کے دوران مصطفیٰ عامر قتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان قریشی کے والد، کامران قریشی کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ شہزاد خواجہ کی عدالت میں ہوئی۔سماعت کے دوران عدالت نے تفتیشی افسر کی غیر حاضری پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نہ تو تفتیشی افسر عدالت میں پیش ہوا اور نہ ہی مقدمے کا چالان جمع کرایا گیا۔ اس غفلت پر عدالت نے تفتیشی افسر کو شوکاز نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا۔

کامران قریشی کے وکیل، خرم عباس اعوان نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ان کے موکل کی گرفتاری 20 مارچ کو ظاہر کی گئی، جبکہ درحقیقت انہیں 16 مارچ کو حراست میں لیا گیا تھا۔ وکیل نے مزید دعویٰ کیا کہ انہیں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے سنگین دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔اس پر جج نے مشورہ دیا کہ وہ ان الزامات کے حوالے سے مناسب قانونی فورم سے رجوع کریں۔ وکیل صفائی نے عدالت کو صرف اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ انہیں حراست میں لیے جانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، ایسی صورت میں وہ اپنے موکل سے متعلق معلومات کیسے دے سکتے ہیں؟دوران سماعت ایف آئی اے کے اہلکار بھی عدالت میں پیش ہوئے اور کامران قریشی کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست دائر کی۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ ملزم سے تفتیش کرنا چاہتے ہیں۔ عدالت نے ہدایت کی کہ پہلے متعلقہ عدالت سے اجازت نامہ (NOC) حاصل کیا جائے۔ بعد ازاں عدالت نے سماعت 16 اپریل تک ملتوی کر دی۔عدالتی کارروائی کے بعد، میڈیا نمائندوں سے غیر رسمی بات چیت میں کامران قریشی نے انکشاف کیا کہ پولیس نے ان پر سخت تشدد کیا اور سختی سے ہدایت کی کہ وہ میڈیا سے گفتگو نہ کریں۔ ان کا کہنا تھا، “میں نے پولیس سے کہا کہ اگر تمہیں مارنا ہے تو مار دو، میں جنت ہی جاؤں گا۔”

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…