جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

اسلام آباد،صحافی وحید مراد کی پیکا قانون کے مقدمے میں گرفتاری ظاہر، 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

datetime 26  مارچ‬‮  2025 |

اسلام آباد (این این آئی)فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف ائی اے) نے اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے صحافی وحید مراد کی پیکا قانون کے مقدمے میں گرفتاری ظاہر کرتے ہوئے انہیں عدالت میں پیش کردیا، عدالت نے 10 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر انہیں 2 روز کے لیے ایف ائی اے کے حوالے کر دیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کے جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ نے صحافی وحید مراد کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت دائر مقدمے کی سماعت کی، ایف ائی اے نے صحافی کو عدالت کے روبرو پیش کیا۔

وحید مراد نے عدالت میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا میری ساس کینسر کی مریضہ ہیں اور وہ علاج کے لیے کینیڈا سے یہاں آئی ہوئی تھیں، رات گئے پولیس ہمارے گھر پولیس دروازہ توڑ کر داخل ہوئی، ساس کو بھی مارا گیا، مجھے 20 منٹ قبل ایف ائی اے کے حوالے کیا گیا ہے۔وحید مراد کی وکیل ایمان مزاری نے عدالت کو بتایا کہ وحید مراد کو حبس بے جا میں رکھنے کی درخواست دائر کی ہے، جج عباس شاہ نے استفسار کیا کہ وحید مراد کو کب گرفتار کیا گیا؟ ایف ائی اے پراسیکیوٹر نے بتایا کہ کل رات گرفتاری عمل میں لائی گئی تھی، وحید مراد پر پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہے۔

پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ صحافی وحید مراد پر اداروں کے خلاف نفرت اور اشتعال پھیلانے کا الزام لگایا گیا ہے، وحید مراد نے آرمی چیف کے اہل خانہ کے حوالے سے احمد نورانی کی رپورٹ بھی شیئر کی۔عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ وحید مراد نے سوشل میڈیا پر بی ایل اے اور بلوچستان کے حوالے سے پوسٹیں شیئر کیں، ان کے ایکس اور فیس بک اکاؤنٹس کے حوالے سے تفتیش کرنی ہے اور موبائل بھی ریکور کرنا ہے۔وکیل ایمان مزاری نے کہا کہ وحید مراد کو ایف ائی اے نے پہلے نوٹس جاری کیوں نہیں کیا؟ معاون وکیل ہادی چٹھا نے عدالت میں کہا کہ صحافت اس ملک میں جرم بن چکی ہے، جرم ہوا ہی نہیں تو عدالت ڈسچارج بھی کر سکتی ہے اور جوڈیشل بھی کر سکتی ہے، صحافیوں کو ہراساں کرنے کے لیے گرفتار کیا جا رہا ہے۔عدالت نے ایف اے آئی کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا منظور کرلی تاہم 10 روز کے بجائے 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر وحید مراد کو ایف آئی اے کے حوالے کردیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…