پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

مذاکرات کا نتیجہ نکلنا چاہئے، دونوں جانب کو احتیاط سے کام لینا چاہئے،علی محمد خان

datetime 15  جنوری‬‮  2025 |

اسلام آباد (این این آئی)رہنماء پی ٹی آئی علی محمد خان نے کہا ہے کہ مذاکرات میں تلخی اس لئے ہے کہ تھوڑا سا مرچ مسالہ بھی ہونا چاہیے۔پارلیمنٹ ہائوس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی محمد خان نے کہا کہ اس وقت این آر او حکومت اور اسٹیبلشمنٹ مانگ رہی ہے ۔ ان کو این آر او چاہیے اور این آر او ایک ہی شخص دے سکتا ہے وہ ہے بانی چیئرمین پی ٹی آئی ۔مذاکرات قریب آتے ہی تلخیوں کے سوال پر علی محمد خان نے کہاکہ تھوڑا سا مرچ مسالہ بھی ہونا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا مسئلہ قوم کی بیٹی کا مسئلہ ہے۔

پی ٹی آئی اس معاملے میں حکومت کا پاکستان کا بھرپور ساتھ دے گی، 20جنوری سے قبل حکومت یہ نیکی کر آئے، بائیڈن ایڈمنسٹریشن کے سامنے موثر طریقے سے آواز اٹھائی جائے ۔علی محمد خان نے کہا کہ ہمارے دور میں بھی اس وقت کے اسیر اراکین قومی و سینٹ پروڈکشن آرڈرز جاری ہوئے، تناسب کے حساب سے دیکھیں تو اسد قیصر نے شہباز شریف، خواجہ سعد رفیق اور احسن اقبال سمیت دیگر کے بھی پروڈکشن آرڈرز جاری کئے جبکہ انہوں نے پریشر میں پروڈکشن آرڈرز جاری کئے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی نہیں ہے، چار سال پتا نہیں کیا ہوگا کہ نہیں ، آپ جاتے جاتے عافیہ صدیقی کا مسئلہ حل کر جائیں، امت مسلمہ کی بیٹی 20سال سے اغیار کے نرغے میں ہے۔انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا رزلٹ نکلنا چاہیے اور دونوں جانب سے احتیاط سے کام لینا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…