جمعہ‬‮ ، 23 جنوری‬‮ 2026 

یونان کشتی حادثہ’ مرکزی ملزم کا بہنوئی گرفتار، وجہ سامنے آگئی

datetime 21  دسمبر‬‮  2024 |

کامونکی (این این آئی)یونان کشتی حادثے کا مرکزی ملزم عثمان ججہ کے بہنوئی انس اقبال کو کامونکی سے گرفتار کرلیا گیا۔ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ملزم کا بہنوئی انس اقبال پاکستان میں ایئرپورٹ کے معاملات دیکھتا تھا، ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔واضح رہے کہ یونان کشتی حادثے کا سبب بننے والی انسانی اسمگلنگ کے ریکٹ کا سرغنہ عثمان ججہ غفلت کی وجہ سے ایف آئی اے کے ہاتھ سے نکل گیا تھا۔ایف آئی اے ذرائع کے مطابق عثمان ججہ اور لیبیا میں موجود بھائی خرم ججہ انسانی اسمگلنگ کا ریکٹ چلاتے ہیں۔سیالکوٹ میں مقیم عثمان ججہ یونان کشتی حادثے سے 11 دن پہلے مخالفین پر فائرنگ کے کیس میں گرفتار ہونے کے بعد سے سیالکوٹ جیل میں تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کشتی حادثے کی تحقیقات میں عثمان ججہ کا کردار سامنے آنے کے بعد ایف آئی اے حکام اس کے پہلے سے گرفتار ہونے کا اطمینان کرکے بیٹھ گئے تھے۔دوسری طرف جب عثمان ججہ کو جب کشتی حادثے کا علم ہوا تو اس نے فائرنگ کیس میں ضمانت کروائی اور رہائی کے بعد سے روپوش ہے۔ ذرائع کے مطابق ایف آئی اے نے نہ تو عثمان ججہ کو یونان کشتی حادثے میں نامزد کر کے گرفتاری ڈالی تھی اور نہ ہی باضابطہ طور پر سیالکوٹ پولیس کو رہا نہ کرنے کا کہا تھا۔

ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے زبانی طور پر کہا تھا جبکہ سیالکوٹ پولیس نے کہا ہے کہ انہیں تحریری طور پر آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔ دوسری جانب ڈائریکٹر ایف ا?ئی اے کا کہنا ہے کہ مفرور انسانی اسمگلنگ سرغنہ عثمان ججہ کا نام اسٹاپ لسٹ مں ڈال دیا گیا، غفلت برتنے والے ایف آئی اے ایس ایچ او اور تفتیشی آفیسر کو شوکاز نوٹس جاری کردیے گئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ 16 دسمبر کو عثمان ججہ کا جوڈیشل ریمانڈ ہوا، 18 دسمبر کو ایف آئی اے ٹیم جیل پہنچی تو رہا ہو چکا تھا، عثمان ججہ کو 17 دسمبر کو ضمانت مل گئی، پولیس افسران نے ایف آئی اے کو لاعلم رکھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا(دوم)


مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…