اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

سیالکوٹ،بہو کی لاش کے ٹکڑے کروانے کیلئے ساس نے ملزم کو 10 ہزار روپے دیے، ملزمہ کا انکشاف

datetime 16  ‬‮نومبر‬‮  2024 |

سیالکوٹ (این این آئی)سیالکوٹ میں سگی خالہ کے ہاتھوں بہو کے قتل کیس میں ملزمہ کے چچا زاد بھائی نوید کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔پولیس کے مطابق ساس ملزمہ صغراں نے دوران تفتیش بتایا کہ نوید نے لاش کے ٹکڑے کیے، ملزم نوید کو ملزمہ نے قتل سے پہلے آن لائن 10ہزار روپے منتقل کیے تھے۔سیالکوٹ کی تحصیل ڈسکہ میں سگی خالہ نے بہو کو قتل کرکے، لاش جلانے کے بعد اس کے ٹکڑے کرکے نالے میں بہا دیے تھے، مقتولہ کی ساس، نند یاسمین، نند کا بیٹا اور لاہور کے رہائشی نوید نامی ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ملزمان نے دوران تفتیش جرم کا اعتراف کر لیا، آلہ قتل اور مقتولہ کے دو موبائل فون پولیس نے تحویل میں لے لیے ہیں۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق گوجرانوالہ کے رہائشی پولیس اے ایس آئی شبیر احمد کی بیٹی زارا کی شادی چار سال خالہ زاد قدیر سے ہوئی تھی۔

سعودی عرب میں مقیم قدیر زارا کو بھی ساتھ لے گیا تھا، زارا پاکستان آتی جاتی رہتی تھی ڈھائی سال قبل زارا کے بیٹے شافع کی پیدائش ہوئی۔شادی کے بعد قدیر سارے پیسے بیوی کے اکاؤنٹ میں بھجوانے لگا تو ساس اور بہو میں جھگڑے شروع ہو ئے۔صغراں نے پہلے بہو کے کردار پر الزامات لگا کر طلاق دلوانے کی کوشش کی اور ناکامی پر بیٹی یاسمین کے ساتھ مل کر قتل کا منصوبہ بنا لیا۔ڈیڑھ ماہ پہلے زارا پاکستان آئی تو ماں بیٹی نے لاہور کے رشتہ دار نوجوان نوید کو اٹلی بھجوانے کا کہہ کر ساتھ ملا لیا۔ملزمان نے زارا کو پہلے چہرے پر تکیہ رکھ کر قتل کیا اور پھر لاش کے ٹکڑے کیے، ملزمان نے شناخت چھپانے کیلئے چہرے کو آگ سیجلا دیا، لاش پانچ بوریوں میں ڈال کر ملزم نوید واپس لاہور چلا گیا۔ملزمہ صغراں نے بیٹی اور نواسے کی مدد سے بوریاں نالے میں پھینکیں، زارا کے والد نے پولیس کو بیٹی کے لاپتہ ہونے کی اطلاع دی، پولیس نے ملزمہ کے نواسے کو حراست میں لیکر پوچھ گچھ کی تو اس نے سارا سچ اگل دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…