جمعہ‬‮ ، 27 مارچ‬‮ 2026 

سیلانی تھیلیسیمیا سینٹر میں زیر علاج 73 بچوں کو انتقال خون سے نجات مل گئی

datetime 1  ‬‮نومبر‬‮  2024 |

کراچی (این این آئی) سیلانی بلڈ بینک اینڈ تھیلیسمیا سینٹر کی بڑی کامیابی، مسلسل تحقیق اور دیکھ بھال کے بعد تھیلیسیمیا سینٹر میں زیر علاج 73 بچوں کو انتقال خون سے نجات مل گئی۔ان بچوں کو گزشتہ دو سال سے خون چڑھانے کی ضرورت نہیں پڑی۔یہ انکشاف سیلانی کے بانی اور چیئرمین مولانا محمد بشیر فاروق قادری نے جمعرات کو سیلانی بلڈ بینک اینڈ تھیلیمیسا سینٹر گلشن اقبال میں منعقدہ ایک میڈیا بریفنگ کے دوران کیا۔اس موقع پر سینٹر کے سربراہ محمد اقبال قاسمانی اور ممتاز ہیماٹولوجسٹ غلام سرور بھی موجود تھے۔

صحت یابی کے مراحل تیزی سے طے کرنے والے بچوں کے والدین نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے سیلانی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انہیں ایک ایسی اذیت ناک صورتحال کا سامنا تھا جسے بیان نہیں کیا جاسکتا ۔اب وہ دو سال سے صرف دوا کے لیے یہاں آتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سیلانی کے بانی مولانا بشیر فاروق قادری نے اہل وطن کو خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالی کے فضل و کرم سے اب پاکستان میں تھیلیسمیا جیسے جان لیوا مرض کا علاج بون میرو ٹرانسپلانٹ کے بغیر ممکن ہوگیا ہے ۔ماضی میں یہی کہا جاتا رہا ہے کہ تھیلیسمیا کا علاج بون میرو کے بغیر ممکن نہیں ہے جو کہ کئی لاکھ روپے کا آپریشن ہوتا ہے۔تاہم اب اہل ایمان نے اس مرض کا علاج دریافت کرکے وہ منفرد کام کردکھایا ہے جس کی پذیرائی ضروری ہے۔سیلانی نے اس علاج کی دریافت پر خطیر رقم خرچ کی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ تھیلیمیسا کا علاج ایک بہترین ڈائیگنوسٹک لیب کے بغیر ممکن نہیں تھا۔اس لیے سیلانی نے پہلے اس لیب کی بنیاد رکھی ۔سیلانی نے تھیلیسمیا مرض کے علاج کے اس مشن کو 2017 میں یہ سینٹر کھول کر شروع کیا تھا۔اس سینٹر میں مجموعی طور پر 720 بچے زیر علاج ہیں اورابتدا میں 385 بچوں کو اس مخصوص علاج کے لیے منتخب کیا۔جس میں سے 73 بچوں کا رزلٹ بہت کامیاب رہا اور انہیں دو سال سے خون نہیں چڑھایا جارہا ہے۔216 بچوں کے جسمانی اعضا نے مثبت رزلٹ دینا شروع کردیے ہیں اور انہیں بھی کئی کئی ماہ سے خون نہیں لگایا جارہا ہے،امید ہے کہ ان بچوں میں سے مزید ایسے بچے سامنے آئیں گے جنہیں انتقال خون کی کبھی ضرورت نہ پڑے۔صحت مند بچے اب بلوغت کی عمر کو پہنچنے پر شادی کے قابل بھی ہورہے ہیں۔

انہوں نیکہا کہ سیلانی کے اس سینٹر کو یہ انفرادیت حاصل ہے کہ یہاں صرف تھیلیسمیا کے مرض میں مبتلا بچوں یا بڑوں کا علاج ہی نہیں کیا جاتا بلکہ انہیں آنے جانے کا کرایہ اور راشن بھی دیتے ہیں اور اگر کوئی بہت غریب ہے تو گھر بھی بناکر دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں سمجھا جاتا ہے تھیلیسیمیا قابلِ علاج نہیں ہے پر ہم نے ثابت کردیا ہر مرض کا علاج ہے اگر بھرپور توجہ سے علاج کیا جائے۔سینٹر کے سربراہ اقبال قاسمانی نے کہا مشکلات آتی ہیں کبھی کبھی خون نہیں ملتا لیکن پھر مدد آجاتی ہے اور مسئلہ حل ہوجاتا ہے۔دیکھا جائے تو یہاں سب مستحق آتے ہیں۔غریب علاقوں میں وبائی امراض کا راج ہے اور لیے ایسے بچوں میں مثبت نتائج ملنا مشکل ہورہا ہے۔ہیماٹولوجسٹ غلام سرور نے کہا کہ یہ مرض والدین سے منتقل ہوتا ہے ہم نے بہت کوشش کی مختلف ادوایات پر تجربہ کیا اور طویل تحقیق کے بعد نتیجہ ملنا شروع ہوگیاہے۔



کالم



ہیکل سلیمانی


اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…