ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

میوزک اسپیکر کی مرمت کیلئے پیسے نہ دینے پرماں قتل

datetime 25  اکتوبر‬‮  2024 |

نئی دہلی (این این آئی)میوزک اسپیکر کی مرمت کیلئے پیسے نہ دینے پر نوجوان نے اینٹوں سے ماں کا چہرہ کچل دیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ غازی آباد میں پیش آیا جہاں سنگدل بیٹا اپنی ماں کا قاتل بن گیا۔55 سالہ خاتون سنگیتا ایک فیکٹری میں کام کرتی تھی اور اسے کے 2 بیٹے موہت اور منیش ہیں، منیش نئی دہلی میں سکیورٹی گارڈ کا کام کرتا ہے جب کہ 26 سالہ موہت مختلف تقریبات میں سانڈ سسٹم والے ڈی جے کے طور پر کام کرتا تھا۔ موہت کو نوراتری کیلئے مندر میں جانے اور اسپیکر کی مرمت کیلئے 20 ہزار بھارتی روپے کی ضرورت تھی جس کیلئے اس نے اپنی ماں سے پیسے مانگے، ماں نے نہ صرف پیسے دینے سے انکار کیا بلکہ موہت کو ڈانٹا بھی، اس کے ساتھ ہی اپنی تمام تر جائیداد بڑے بیٹے کے نام کرنے کی دھمکی بھی دی۔

گلے روز موہت نے دوستوں کے ساتھ مل کر شراب پی اور ماں کو مارنے کا منصوبہ بنایا، منصوبے کے تحت موہت نے ماں کو اس کی فیکٹری سے موٹر سائیکل پر لیا اور گھر چھوڑنے کا کہہ کہ دور دراز علاقے میں لے گیا اور اینٹیں مار کر قتل کردیا۔خاتون کی لاش ملنے کی اطلاع پر پولیس حرکت میں آئی اور کارروائی کرتے ہوئے موہت اور اس کے دوستوں کو گرفتار کرلیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…