جمعرات‬‮ ، 08 جنوری‬‮ 2026 

عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری

datetime 23  اکتوبر‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان سے ان کی بہن نورین نیازی کی ملاقات نہ کرانے پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو (آج)جمعرات کیلئے نوٹس جاری کردیا جبکہ شوکت خانم ہسپتال کے ڈاکٹروں سے معائنے کی درخواست پر عدالت نے جیل حکام اور اسٹیٹ کونسل کا جواب غیر تسلی بخش قرار دے دیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے عمران خان کا شوکت خانم ہسپتال کے معالجین سے معائنہ کرنے کی درخواست پر سماعت کی۔

دوران سماعت جیل حکام اور اسٹیٹ کونسل نے جواب جمع کرایا جسے عدالت نے غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں کا رویہ قابل تعریف نہیں ہے۔اسٹیٹ کونسل نے عدالت کو آگاہ کیا جیل میں طبی معائنہ کے لیے ڈاکٹرز موجود ہیں ، ہفتہ میں 3 روز معائنہ ہوتا ہے، جیل میں پنجاب حکومت کے ہوم ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ملاقاتوں پر 25 اکتوبر تک پابندی عائد ہے۔جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ بانی پی ٹی آئی انڈر ٹرائل قیدی ہیں، درخواست گزار کے وکیل نے موقف اپنایا کہ جنگوں میں بھی ڈاکٹروں کے معائنے کی اجازت ہوتی ہے۔جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ہدایت دی کہ ان کی درخواست کو دیکھیں، ہم نے جیل دورے کے دوران وہاں ڈاکٹرز دیکھے ہیں جو میریٹ پر بھی نہیں تھے، میں اس پر حکم نامہ جاری کروں گا۔دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ نے نورین نیازی کی عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کی درخواست (آج)جمعرات کو سماعت کے لیے مقرر کردی۔

نورین نیازی کی بانی پی ٹی آئی سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کی درخواست پر سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق نے کی۔دوران سماعت، سلمان اکرم راجا عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے نئی درخواست دائر کی ہے جس پر سلمان اکرم راجا نے کہا کہ عمران خان کے سیل کی بجلی بند ہے، ان کو باہر نہیں آنے دیا جا رہا، جو کچھ ہو رہا ہے وہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ میں آپ کی بات سمجھ سکتا ہوں ، آپ کا مین کیس (آج) جمعرات کے لیے لگا لیتے ہیں، سپریڈنٹ اڈیالہ کو بلا کر پوچھ لیتے ہیں، آپ کا معاملہ حل کرتے ہیں۔

سلمان اکرم راجا نے کہا کہ بینچ 3 میں ڈاکٹرز کی رسائی سے متعلق درخواست لگی ہوئی ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ جیل میں فیملی، ڈاکٹرز یا وکلا میں سے کسی کو تو ملنے دیا جائے، عدالت نے کیس کی سماعت (آج)جمعرات تک ملتوی کردی۔واضح رہے کہ 7 اکتوبر کو اڈیالہ جیل میں عمران خان سمیت تمام قیدیوں سے ملاقات پر 18 اکتوبر تک پابندی عائد کردی گئی تھی تاہم سیاسی سمیت عام قیدیوں سے ملاقاتوں پر پابندی میں مزید توسیع کر دی گئی تھی۔ذرائع نے بتایا کہ جیل ملاقاتوں پر پابندی تاحکم ثانی رہے گی، ملاقاتوں پر پابندی میں توسیع حکومت پنجاب نے کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پرسی پولس


شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…