ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ سے ڈیمز فنڈز کی رقم مانگ لی

datetime 11  ستمبر‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ سے دیامر بھاشا اور مہمند ڈیمز فنڈز کی رقم مانگ لی۔چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 4 رکنی بینچ نے دیامر بھاشا اور مہمند ڈیمز فنڈز سے متعلق کیس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمٰن نے کہا کہ ہم نے ایک متفرق درخواست دائر کی ہے، ڈیمز فنڈز کے پیسے وفاق اور واپڈا کو دیے جائیں، سپریم کورٹ کی نگرانی میں اسٹیٹ بینک نے اکاؤنٹ کھولا تھا۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ ڈیمز فنڈز میں کتنے پیسے ہیں؟واپڈا کے وکیل سعد رسول نے عدالت کو بتایا کہ تقریباً 20 ارب روپے ڈیمز فنڈز میں موجود ہیں۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ یہ کیس شروع کیسے ہوا؟وکیل سعد رسول نے کہا کہ سپریم کورٹ نے واپڈا کے زیرِ سماعت مقدمات کے دوران 2018ء میں ازخود نوٹس لیا تھا، سپریم کورٹ کے ڈیمز فنڈز عمل درآمد بینچ نے 17 سماعتیں کیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ واپڈا کے اور بھی کئی منصوبے ہوں گے، کیا سپریم کورٹ واپڈا کے ہر منصوبے کی نگرانی کرتی ہے؟واپڈا کے وکیل نے کہا کہ ڈیمز کی تعمیر کے معاملے پر پرائیویٹ فریقین کے درمیان بھی تنازعات تھے، سپریم کورٹ نے پرائیویٹ فریقین کے تنازعات متعلقہ عدالتوں کے بجائے اپنے پاس سماعت کے لیے مقرر کیے، ہماری استدعا ہے کہ پرائیویٹ فریقین کے تنازعات متعلقہ عدالتی فورمز پر ہی چلائے جانے چاہئیں۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم تو ڈیمز نہیں بنا سکتے، عمل درآمد بینچ کا اختیار آئین میں کہاں لکھا ہوا ہے؟ سپریم کورٹ کو اپنے حکم پر عملدرآمد کرانے کا اختیار نہیں ہے۔جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ پہلے کیس پانچ رکنی بنچ سن چکا ہے، ہمارا بینچ 4رکنی ہے۔ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی نے 4 رکنی بینچ کے سامنے کیس مقرر کرنے کی منظوری دی تھی، ہم نظرثانی نہیں کر رہے ہیں، اگر ضروری سمجھا تو 5 رکنی بینچ بھی بنا سکتے ہیں۔سپریم کورٹ نے دیامر بھاشا اور مہمند ڈیمز فنڈز کیس کی سماعت 3 ہفتوں کے لیے ملتوی کرتے ہوئے آڈیٹر جنرل پاکستان کو نوٹس جاری کر دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…