جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

اسسٹنٹ جیل سپرنٹنڈنٹ کے بیٹے کو ڈاکوں نے گولی مار کر وِڈیو وائرل کردی

datetime 21  اگست‬‮  2024 |

سکھر(این این آئی)اسسٹنٹ جیل سپرنٹنڈنٹ کے بیٹے کو ڈاکوں نے گولی مار کر وِڈیو وائرل کردی۔اسحاق رند کے بیٹے جمیل رند کو ڈاکوئوں نے 10 اگست کو شاہ لطیف یونیورسٹی کے قریب خیرپور سے اغوا کیا تھا، جس کے بعد ڈاکوئوں کی جانب سے 2 کروڑ روپے کا تاوان کا مطالبہ کیا جا رہا ہے اور اس کے لیے دبائو ڈالنے کی غرض سے ڈاکوئوں نے مغوی جمیل رند کی ٹانگ پر گولی مار کر وِڈیو وائرل کردی۔

پولیس حکام کے مطابق نوجوان کی ڈاکوئوں کے چنگل سے بازیابی کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں، جمیل رند کو جلد ہی ڈاکوئوں کی قید سے آزاد کرا لیا جائے گا۔دریں اثنا ڈاکوئوں کے چنگل میں پھنسے جمیل رند کی ایک دوسری ویڈیو بھی منظر عام پر آ گئی ہے، جس میں مغوی نوجوان کہہ رہا ہے کہ ڈاکو آج ٹانگ توڑ رہے ہیں، اگر 2 کروڑ روپے نہ دیئے تو یہ مجھے مار ڈالیں گے۔ نوجوان نے کہا کہ فوری طور پر تاوان کی رقم ادا کرکے مجھے آزاد کروائیں۔نوجوان کے وِڈیو بیان کے دوران گولی چلنے کی آواز آتی ہے، جس کے ساتھ ہی مغوی جمیل رند گر جاتا ہے۔دوسری جانب رند برادری کی جانب سے نوجوان کے اغوا اور اسے تاحال بازیاب نہ کروائے جانے کے خلاف احتجاج کیا جا رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…