پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

حالات تو ٹھیک نہیں لیکن ابھی ہاتھ سے نہیں نکلے، مولانا فضل الرحمان

datetime 10  اگست‬‮  2024 |

اسلام آباد(این این آئی)جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ حالات تو ٹھیک نہیں لیکن ابھی ہاتھ سے نہیں نکلے، تمام سیاستدانوں کو سنجیدہ سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا،شدت پسندی کی گنجائش نہیں۔پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حالات تو ٹھیک نہیں ہیں، لیکن ایسے بھی نہیں کہ ہاتھ سے نکلے ہوئے ہیں،حالات کو ٹھیک ہونا چاہیے،تمام سیاستدانوں کو اس حوالے سے سنجیدہ سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ شدت پسندی، اور ایک ایسے پوائنٹ پر جانا کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے کے بھی قابل نہ رہیں، اس کی گنجائش نہیں۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کس طرف سے پیش قدمی کرنی چاہئے تو امیر جے یو آئی نے کہا کہ پیش قدمی تو ہر طرف سے ہوسکتی ہے تاہم ہم سب ساتھی ہیں، سیاسی اختلاف ہونے کے باوجود ہم ایک دوسرے سے ملتے ہیں، بات چیت کرتے ہیں، کوئی ایسی صورتحال نہیں کہ ہم۔ایک دوسرے کے ساتھ نہ بیٹھ سکیں ۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم اسمبلی میں عام گفتگو کرتے ہیں وہاں ہر چیز ریکارڈ ہورہی ہوتی ہے، میڈیا بھی ریکارڈ کررہا ہوتا ہے، اس کے علاوہ تو ہم دوستوں کی طرح ملتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پورے ایوان نے ارشد ندیم کو مبارک دی ہے، ایوان اور پوری قوم کی طرف سے مبارک دیتے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحما ن نے کہا کہ میرا خیال ہے الیکشن ایکٹ کے حوالے سے تحفظات تو ہیں، ٹائمنگ کو دیکھنا پڑتا ہے، الیکشن ایکٹ پر یہ سوالات پیدا ہوں گے کہ کیا یہ نیک نیتی پر مبنی بھی تھا ،بات چیت کی کوشش کرنی چائیے اللہ مدد کرے گا۔ ایک صحافی نے سوال کیا کہ تحریک انصاف سے مزاکرات کے لئے کمیٹی قائم ہے، کیا ٹی او آرز بن گئے ہیں رتو مولانا نے کہا کہ تحریک انصاف سے مزاکرات تو کمیٹی کے حوالے کئے ہوئے ہیں کمیٹی جانے اور مزاکرات جانیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…