ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

عوام کو سستی بجلی، راشن، انکم ٹیکس میں رعایت دینے کی تیاریاں

datetime 9  اگست‬‮  2024 |

اسلام آباد(این این آئی)وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے عوام کو مہنگائی کے طوفان سے محفوظ رکھنے کیلئے بڑے ریلیف پیکیج کی تجویز ہے جس کا حجم 400ارب روپے ہو سکتا ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق ذرائع وزارت خزانہ نے بتایا کہ ریلیف پیکیج کے تحت عوام کو سستی بجلی، راشن اور انکم ٹیکس میں رعایت دینے کی تیاریاں ہیں جبکہ بجلی کے بلوں میں بھی کمی ہوگی۔ریلیف پیکیج کے تحت صنعتی صارفین کو بھی بڑی خوش خبری ملنے کا امکان ہے جبکہ بند صنعتی شعبے کو بجلی میں ریلیف دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔

چھوٹے دکانداروں کیلئے بھی بجلی کے ریٹ کم کیے جانے کی تیاریاں ہیں۔ذرائع کے مطابق 50سے 200یونٹ تک گھریلو صارفین کو بڑا ریلیف ملنے کا امکان ہے جبکہ 300یونٹ والوں گھریلو صارفین کیلئے جزوی ریلیف پر غور کیا جا رہا ہے، ریلیف پیکیج کا اطلاق سولر پینل والے گرین میٹر صارفین پر نہیں ہوگا۔علاوہ ازیں، یوٹیلیٹی اسٹورز پر سبسڈی کا دائرہ کار بڑھایا جائے گا، 40سے 49ہزار روپے ماہانہ آمدن والے طبقے کو راشن سبسڈی دینے کی تیاریاں ہیں، کم تنخواہ والے طبقے کیلئے ٹیکس کی چھوٹ پر غور ہوگا۔

ذرائع نے بتایا کہ ریلیف پیکیج کیلئے وزارت خزانہ، منصوبہ بندی اور توانائی کو خصوصی ہدایات جاری کر دی گئیں، پیکیج کیلئے 400ارب روپے بجٹ سے نہیں دئیے جائیں گے بلکہ ترقیاتی بجٹ میں 400 ارب کی کمی کر کے رقم ریلیف کیلئے مختص کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔نئے مالی سال کا ترقیاتی بجٹ 700سے 800ارب روپے تک ہو سکتا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف اس حوالے سے آئی ایم ایف سے بھی مشاورت کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…