منگل‬‮ ، 02 جون‬‮ 2026 

سیاسی جماعتیں ملک کیلئے خطرہ بن جائیں تو انہیں قومی جماعتیں نہیں کہا جائے گا’ جاوید لطیف

datetime 16  جولائی  2024 |

لاہور ( این این آئی) مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما وسابق وفاقی وزیر جاوید لطیف نے ریاست کو کمزور کرنے والے خفیہ ہاتھ سامنے لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتیں ملک کے لیے خطرہ بن جائیں تو انہیں قومی جماعتیں نہیں کہا جائے گا،پاکستان معاشی، اخلاقی، دفاعی اور سفارتی لحاظ سے کمزور ہو چکا ہے،اب ہم مزید کسی امتحان کے قابل نہیں رہے، سب جانتے ہوئے بھی ہم آنکھیں بند نہیں کر سکتے، پاکستان نے جب جب اپنی معاشی ترقی کے لحاظ سے قدم اٹھایا وہ لیڈرشپ نشانہ عبرت بنی، جو خفیہ ہاتھ پیچھے رہ کر ریاست کو کمزور کرتے ہیں ان کو سامنے لایا جائے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکرٹریٹ ماڈل ٹائون میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ جاوید لطیف نے کہا کہ سیاسی جماعتیں ملک کا اثاثہ ہوتی ہیں، سیاسی جماعتیں کمزور کرنے سے جمہوریت کمزور ہوتی ہے لیکن سیاسی جماعت ملک کے لیے خطرہ بن جائے تو انہیں قومی جماعتیں نہیں کہا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان معاشی ، اخلاق ، دفاعی اور سفارتی لحاظ سے کمزور ہو چکا ہے، اب ہم مزید کسی امتحان دینے کے قابل نہیں رہے، سب جانتے ہوئے بھی آنکھیں بند نہیں کرسکتے۔سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام ضروری ہے لیکن پاکستان نے جب جب اپنی معاشی ترقی کے لحاظ سے قدم اٹھایا وہ لیڈرشپ نشانہ عبرت بنی، جو خفیہ ہاتھ پیچھے رہ کر ریاست کو کمزور کرتے ہیں ان کو سامنے لایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کی بنیاد رکھنے والے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل میں وہ قوتیں بھی شامل تھیں جو پاکستان کو ناقابل تسخیر دفاع کے حوالے سے قبول نہیں کرتی تھیں جبکہ پاکستان کے اداروں میں بیٹھے کچھ لوگوں اور قومی جماعتوں میں موجود کچھ لوگوں نے اپنی ضرورت کے تحت ان کے مفادات پورے کیے، جس سے پاکستان کا نقصان کیا گیا۔جاوید لطیف نے کہا کہ ہمیشہ کہتا ہوں سیاسی جماعتوں پر پابندی نہیں ہونی چاہیے لیکن ایک جماعت اگر ملکی تنصیبات پر حملہ کرے تو اس پر کیسے پابندی نہ لگے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے تحریک لبیک پر پابندی لگائی تھی لیکن اس وقت تو کسی جگہ سے تشویش کا اظہار کرنا یاد نہیں آیا تھا، آج ایک پریس کانفرنس میں ایک جماعت پر پابندی کی بات کی گئی تو تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔

سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ آج روز پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھانی پڑ رہی ہیں، گیس اور بجلی کیبل ہماری پہنچ سے دور ہوتے جارہے ہیں، پاکستان میں کینیا جیسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، لیکن اس پر کسی کو تشویش نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ جس سے ملک کو خطرہ ہو اسے کوئی سیاسی جماعت نہیں کہتا ہے۔پی ٹی آئی کے دور میں سی پیک پر کام کس نے رکوایا تھا، اب یہ کہتا ہے کہ سی پیک فیز ٹو بند کرکے دکھائوں گا، ملک اب کسی امتحان کا متحمل نہیں ہو سکتا۔انہوں نے کہا کہ جنہوں نے پاکستان کی خدمت کی وہ پھانسی پر چڑھ گیا یا تاحیات نااہل ہوگیا، اور جس نے 4سال کچھ نہیں کیا اس کو ہیرو بناکر پیش کیا جارہا ہے۔جاوید لطیف کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے اداروں میں بیٹھے لوگ اور جماعتوں کو یہ یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ آئی ایم ایف ہو یا سپرپاور ہو، انہیں سی پیک کسی صورت پاکستان میں قابل قبول نہیں ہے اور اس خواہش کو پوری کرنے والا پاکستان کا خیرخواہ کیسے ہوسکتا ہے۔



کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…