جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

جج صاحب آپ اللہ کو جوابدہ ہیں، ایجنسیوں کو نہیں، عمران خان

datetime 14  جولائی  2024 |

اسلام آباد(این این آئی)بانی پی ٹی آئی عمران خان نے نئے توشہ خانہ ریفرنس کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ جج صاحب آپ اللہ کو جوابدہ ہیں، آئی ایس آئی کو نہیں، جج بشیر نے کہا تھا سر پر بندوق رکھ کر فیصلہ لیا ہے۔بانی پی ٹی آئی نے سماعت کے آغاز پر میڈیا کی غیر موجودگی پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اگر میڈیا نہیں آتا تو میں عدالت سے واک آؤٹ کر جاؤں گا،بانی پی ٹی آئی کے اعتراض پر عدالت نے میڈیا نمائندگان کو جیل کے اندر بلانے کا حکم دیا، میڈیا نمائندوں کے عدالت میں داخل ہوتے ہی سماعت کا آغاز ہوا۔

سماعت کے آغاز پر بانی پی ٹی آئی روسٹم پر گئے اور جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ جج صاحب میری بیوی کا توشہ خانہ سے کچھ لینا دینا نہیں، جیل میں چار مرتبہ قرآن پڑھا ہے اس میں ججز پر اللہ نے بہت ذمہ داری ڈالی ہے، بشریٰ بی بی کو صرف مجھے اذیت پہنچانے کے لیے جیل میں ڈال رکھا ہے۔بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ میری بیوی کو بادشاہ سلامت ٹارگٹ کر رہے ہیں کیونکہ میں نے اس کو آئی ایس آئی کے عہدے سے ہٹایا اور میری بیوی نے اس کی سفارش نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم کو رات 12 بجے بتایا جاتا ہے صبح نیا کیس لگے گا، نیب والے روبوٹ ہیں ان کو تنخواہ دے کر جو مرضی کام کروا لیں، پہلے جس ریفرنس میں سزا ہوئی وہ جیولری سیٹ ہمارے پاس ہے اور اس کی قیمت 1 کروڑ 80 لاکھ روپے تھی لیکن انھوں نے سوا تین ارب کر دی۔بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ میں صرف اپنی بیوی کی بات کرتا ہوں، اس کو دوبارہ گرفتار کرکے بہت غلط کیا ہے۔ پہلے آفتاب سلطان اور دیگر لوگ مستعفی ہوئے کیونکہ یہ غلط فیصلے کرانا چاہتے تھے، دوسرا کیس اس لیے بنایا ہے کیونکہ ان کو پتا چل گیا ہے پہلا سیٹ ہمارے پاس ہے، جنگل کے بادشاہ نے سب کچھ کرایا ہے۔سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی ایک ساتھ بیٹھے رہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…