جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

جج صاحب آپ اللہ کو جوابدہ ہیں، ایجنسیوں کو نہیں، عمران خان

datetime 14  جولائی  2024 |

اسلام آباد(این این آئی)بانی پی ٹی آئی عمران خان نے نئے توشہ خانہ ریفرنس کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ جج صاحب آپ اللہ کو جوابدہ ہیں، آئی ایس آئی کو نہیں، جج بشیر نے کہا تھا سر پر بندوق رکھ کر فیصلہ لیا ہے۔بانی پی ٹی آئی نے سماعت کے آغاز پر میڈیا کی غیر موجودگی پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اگر میڈیا نہیں آتا تو میں عدالت سے واک آؤٹ کر جاؤں گا،بانی پی ٹی آئی کے اعتراض پر عدالت نے میڈیا نمائندگان کو جیل کے اندر بلانے کا حکم دیا، میڈیا نمائندوں کے عدالت میں داخل ہوتے ہی سماعت کا آغاز ہوا۔

سماعت کے آغاز پر بانی پی ٹی آئی روسٹم پر گئے اور جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ جج صاحب میری بیوی کا توشہ خانہ سے کچھ لینا دینا نہیں، جیل میں چار مرتبہ قرآن پڑھا ہے اس میں ججز پر اللہ نے بہت ذمہ داری ڈالی ہے، بشریٰ بی بی کو صرف مجھے اذیت پہنچانے کے لیے جیل میں ڈال رکھا ہے۔بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ میری بیوی کو بادشاہ سلامت ٹارگٹ کر رہے ہیں کیونکہ میں نے اس کو آئی ایس آئی کے عہدے سے ہٹایا اور میری بیوی نے اس کی سفارش نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم کو رات 12 بجے بتایا جاتا ہے صبح نیا کیس لگے گا، نیب والے روبوٹ ہیں ان کو تنخواہ دے کر جو مرضی کام کروا لیں، پہلے جس ریفرنس میں سزا ہوئی وہ جیولری سیٹ ہمارے پاس ہے اور اس کی قیمت 1 کروڑ 80 لاکھ روپے تھی لیکن انھوں نے سوا تین ارب کر دی۔بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ میں صرف اپنی بیوی کی بات کرتا ہوں، اس کو دوبارہ گرفتار کرکے بہت غلط کیا ہے۔ پہلے آفتاب سلطان اور دیگر لوگ مستعفی ہوئے کیونکہ یہ غلط فیصلے کرانا چاہتے تھے، دوسرا کیس اس لیے بنایا ہے کیونکہ ان کو پتا چل گیا ہے پہلا سیٹ ہمارے پاس ہے، جنگل کے بادشاہ نے سب کچھ کرایا ہے۔سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی ایک ساتھ بیٹھے رہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…