منگل‬‮ ، 16 جولائی‬‮ 2024 

دنیا بھر میں ہر 7 میں سے ایک بالغ اور ہر 10 میں سے ایک بچہ دردِ شقیقہ کا شکار ہے، طبی ماہرین

datetime 11  جولائی  2024
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی(این این آئی)ڈائویونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں “دردِ شقیقہ” کے بین الاقوامی مہینے کے سلسلے میں”مائیگرین اینڈ ہیڈیک اویرنس” کے عنوان سے منعقدہ سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے طبی ماہر ڈاکٹر محمد اسماعیل خالد یوسف نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں ہر 7 میں سے ایک بالغ اور ہر 10 میں سے ایک بچہ دردِ شقیقہ کا شکار ہے،سیمینار کا انعقاد ڈائو یونیورسٹی کے پروفیشنل ڈیولپمنٹ سینٹر نے پاکستان سوسائٹی آف نیورولوجی(پی ایس این)کے اشتراک سے کیا جس کی صدارت پروفیسر نیورولوجی ڈاکٹر نائلہ نعیم شہباز نے کی اور ڈاکٹر سدرہ جازل فاروقی پروگرام کوآرڈی نیٹر تھیں،سیمینار سے ڈاکٹر محمد اسماعیل خالد یوسف نے امریکہ سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کیا اور بچوں اور نو عمر افرا د میں سردرد پر گفتگو کی ۔

انہوں نے کہاکہ عالمی سطح پر 3.1 ارب سے زائد افراد یعنی دنیا کی 40 فیصد آبادی کسی نہ کسی قسم کے سردردکے عارضے میں مبتلا ہیں، انہوں نے کہا کہ لگ بھگ 2 ارب افراد ٹینشن سے ہونے والے سردرد جبکہ ایک ارب افراد مائیگرین کا شکار ہیں، ان کا مزید کہنا تھا کہ میرے تجربے کے مطابق 90 فیصد کیسز میں سب سے زیادہ دیکھا جانے والا سردرد مائیگرین ہی نکلتا ہے، ڈاکٹر اسماعیل نے کہا کہ دنیا بھرمیں ہر 7 میں سے ایک بالغ انسان مائیگرین کاشکار ہے جبکہ عالمی سطح پر 10 میں سے ایک بچہ اورنو عمر مریض دردِ شقیقہ میں مبتلا ہے تاہم پاکستان میں اس مرض میں مبتلا بالغ افراد کی تعداد بدقسمتی سے اوسط سے زیادہ ہے، ایک تحقیق کے مطابق عالمی سطح پر مائیگرین کاپھیلائو 14 فیصد ہے جبکہ 2017 میں مقامی سطح پر کی جانے والی تحقیق کے مطابق پاکستان میں ایک سال میں مائیگرین کا پھیلائو اندازاً22.5 فیصد ہے۔

انہوں نے کہاکہ عالمی سطح پر ٹینشن سے ہونے والے سردر د کا پھیلا ئو26 فیصد ہے جبکہ پاکستان میں اس کی شرح 44.6 فیصد ہے، بچوں میں سرد رد سے متعلق ڈاکٹر اسماعیل نے کہا کہ بچوں اور نوعمروں میں سردرد ،اسکول میں غیر حاضری کی وجہ بننے والی تیسری سب سے عام بیماری ہے، جو معیارِ زندگی، تفریحی سرگرمیوں، ذاتی زندگی اور پڑھائی میں دشواری کا باعث بن سکتی ہے، انہوں نے کہا کہ بار بار ہونے والا سردرد جو ایک یا اس سے زائد دن ہوتا ہے، یہ درد عموما 30 فیصد بچوں کو ہوتا ہے، انہوں نے کہا کہ مائیگرین کے محرکات میں خواتین میں ہارمونز کی تبدیلی، ٹینشن، اسٹریس سونے کی اوقات کار میں کمی یا تبدیلی،موسم، تیز روشنی یا شور شامل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مردوں کے مقابلے میں خواتین دردِ شقیقہ کا زیادہ شکار ہوتی ہیں، انہوں نے کہا کہ وہ بچے جنہیں کم عمری میں سردرد کی شکایت ہوتی ہیں ان میں بڑے ہونے کے بعد ذہنی امراض کا خدشات بھی بڑھ جاتے ہیں، مائیگرین کے نفسیاتی و سماجی اسباب اور اثرات سے متعلق انہوں نے کہا کہ نوجوانوں میں سردرد کا ممکنہ تشدد، نظرانداز کیے جا نا یا بدسلوکی کو بتایا جاتا ہے تاہم بروکن فیملیز کے بچوں کی اس سردرد سے نمٹنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوتی ہے،

انہوں نے مزید بتایا کہ زندگی کے ابتدائی 18 برسوں میں ہونے والے منفی تجربات اور ان سے ہونے والا اسٹریس بھی منفی اور مجموعی طور پر نوجوانوں میں دائمی درد اور ذہنی امراض سے منسلک ہے، انہوں نے مختلف نوعیت کے سرد رد کا شکار بچوں کی کیس اسٹڈیز پر بھی روشنی ڈالی ، جن میں سے ایک8 سال بچے کا سردرد ٹیومر کا نتیجہ تھا، جبکہ 11 سے 16 سال کے بچوںمیں ہونے والا سردرد ذہنی دبائو اور خاص طور پر پڑھائی سے متعلق اسٹریس اور گھریلو پریشانی کی وجہ سیتھا جو دردِ شقیقہ کی وجہ بنا، ڈاکٹر اسمعیل نے دردِ شقیقہ سے جڑے دیگر امراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بچوں میں مائیگرین سے جڑے ان سنڈرومز کی شرح 5 فیصد ہے، جیسا کہ جن بچوں کو ایبڈومنل مائیگرین ہوتا ہے تو 70 فیصد امکان ہے کہ وہ بالغ العمری میں دردِ شقیقہ کا شکار ہوں گے،انہو ں نے کہا کہ مائیگرین کی تشخیص میں فیملی ہسٹری بھی اہم ہے، جن بچوں میں مائیگرین کی تشخیص ہوتی ہے ان میں سے کم از کم دو تہائی فیصد کے والدین میں سے کسی ایک کو بھی اسی عمر میں اس درد کی شکایت تھی،

انہوں نے کہاکہ اگر والدین میں سے کسی ایک کو مائیگرین ہے تو بچوں میں منتقلی کاامکان لگ بھگ 50فیصد ہے اور اگر دونوں کو یہ مسئلہ ہے تو بچوں کے دردِ شقیقہ کا شکارہونے کا امکان 75 فیصد ہے، ان کا کہنا تھا کہ مائیگرین کے کم ازکم ایک تہائی مریضوں کو یہ شکایت بچپن یا نوعمری سے ہوتی ہے، جن کی اکثریت کو سردرد کی شکایت زندگی بھر ہوتی رہتی ہے، جبکہ 50 فیصد کو مائیگرین ہوتا ہے اور 25 فیصد کو ٹینشن پر مبنی سردرد میں تبدیل ہوجاتا ہے،انہوں نے کہا کہ دردِ شقیقہ کے لیے درد کش ادویات دی جاتی ہیں اور بوقت ضرورت تھراپی تجویز کی جاتی ہے جو مفید ثابت ہوسکتی ہے، مائیگرین پر قابو پانے کے لیے انہوں نے اسکرین ٹائم میں کمی بھی تجویز کی کہ 2 برس سے کم عمر بچوں کو موبائل فون بالکل بھی نہ دکھایا جائے، 2 سے 5 برس کے بچوں کو روزانہ ایک گھنٹے سے زیادہ نہ دکھایا جائے، فون ایک فٹ دورہونا چاہیے، کمپیوٹر سے کم از کم 2 فٹ کے فاصلے پر بیٹھیں اور ٹی وی سے 10 فٹ دور بیٹھا جائے،ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسمارٹ فونز یا کمپیوٹر استعمال کرتے ہوئے بیٹھنے کا انداز بھی اس درد کی وجہ بنتا ہے۔



کالم



کتابوں سے نفرت کی داستان


میں نے فوراً فون اٹھا لیا‘ یہ میرے پرانے مہربان…

طیب کے پاس کیا آپشن تھا؟

طیب کا تعلق لانگ راج گائوں سے تھا‘ اسے کنڈیارو…

ایک اندر دوسرا باہر

میں نے کل خبروں کے ڈھیر میں چار سطروں کی ایک چھوٹی…

اللہ معاف کرے

کل رات میرے ایک دوست نے مجھے ویڈیو بھجوائی‘پہلی…

وہ جس نے انگلیوں کوآنکھیں بنا لیا

وہ بچپن میں حادثے کا شکار ہوگیا‘جان بچ گئی مگر…

مبارک ہو

مغل بادشاہ ازبکستان کے علاقے فرغانہ سے ہندوستان…

میڈم بڑا مینڈک پکڑیں

برین ٹریسی دنیا کے پانچ بڑے موٹی ویشنل سپیکر…

کام یاب اور کم کام یاب

’’انسان ناکام ہونے پر شرمندہ نہیں ہوتے ٹرائی…

سیاست کی سنگ دلی ‘تاریخ کی بے رحمی

میجر طارق رحیم ذوالفقار علی بھٹو کے اے ڈی سی تھے‘…

اگر کویت مجبور ہے

کویت عرب دنیا کا چھوٹا سا ملک ہے‘ رقبہ صرف 17 ہزار…

توجہ کا معجزہ

ڈاکٹر صاحب نے ہنس کر جواب دیا ’’میرے پاس کوئی…