جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

بجلی بل ادائیگی کے باوجود بیٹے کی گرفتاری، باپ صدمے سے چل بسا

datetime 3  مئی‬‮  2024 |

حیدرآباد(این این آئی)حیدرآباد میں بجلی بل کی ادائیگی کے باوجود نوجوان کی بلا جواز گرفتاری کے صدمے میں بوڑھا باپ زندگی کی بازی ہار گیا۔تفصیلات کے مطابق حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو)کے غیر ذمے دارانہ عمل کی وجہ سے ایک اور ہنستا بستا گھر اجڑ گیا۔حیسکو عملے ادائیگیوں اور گرفتاریوں کی مہم کے سلسلے میں لیبر کالونی میں بلوں کی مسلسل ادائیگی کے باوجود نوجوان دانش کو پولیس کے ہاتھوں گرفتار کرا دیا۔نوجوان کا ضعیف العمر باپ محمد عبدالمجید یہ صدمہ نہ جھیل سکا۔

یوں حیسکو کے غیر ذمے دارانہ عمل نے اس کی جان لے لی اور ایک ہنستا بستا گھر اجڑ گیا۔اس حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ حیسکو نے سائٹ تھانے میں لیبر کالونی کے رہائشی دانش سمیت 6 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا۔ سائٹ پولیس نے 22 اپریل 2024 کو مقدمہ درج کرنے کے بعد ایک لاکھ 20 ہزار 416 روپے کا بل ادا نہ کرنے پر دانش کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا۔نوجوان کا والد عبدالمجید نے قسطوں میں بل کا آدھا حصہ ادا کرنے کے بعد اپنے بیٹے کو رہا کرنے کی کوشش کی لیکن وہ رہا نہ ہو سکا۔گزشتہ روز بوڑھا باپ مایوسی کے عالم میں گھر پہنچا جہاں پریشانی کے باعث حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کر گیا۔

تاہم بیٹے کے جیل میں ہونے کی اس کی تدفین نہیں ہو سکی ہے۔بتایا جا رہا ہے کہ اہل علاقہ باپ کی تدفین میں شرکت کے لیے بیٹے کی پے رول پر رہائی کی کوششیں کر رہے ہیں اس حوالے سے متعلقہ حکام کو درخواست بھی دی جا رہی ہے۔اہل علاقہ نے ولید کی موت کا ذمے دار حیسکو کو قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔واضح رہے کہ سندھ کے 13 اضلاع پر مشتمل حیسکو ریجن اب تک 5 ہزار صارفین پر مقدمات درج کرا چکی ہے۔ ان مقدمات میں اصل صارف کے علاوہ ان کے اہل خانہ پر غلط مقدمات کی شکایات بھی معمول کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…